پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے اوپر جمعرات کو ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد پہلی بار عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹھیک ہونے پر پھر اسلام آباد کی کال دوں گا، جب تک تین لوگ استعفا نہیں دیتے، عوام احتجاج جاری رکھیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان جو ملک کے سب سے مقبول سیاسی لیڈر ہیں، خوش قسمتی سے جمعرات کو ہونے والے قاتلانہ حملے میں بچ گئے ہیں، پبلک میں پیش کیے جانیوالے ایک مبینہ حملہ آور کے اپنے اعترافی بیان سے یہ بات مترشح ہے کہ حملے کا ہدف عمران خان تھے اور حملہ آور عمران خان کو راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کرکے ہی آیا تھا، مگر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ حملہ آور کا نشانہ خطا گیا اور عمران خان جان کے خطرے سے دوچار نہیں ہوئے، خدا نخواستہ حملہ جان لیوا ثابت ہوتا تو یہ ملک و قوم کیلئے بڑا المناک واقعہ ہوتا اور اس کا نقصان لمبے عرصے تک قوم کو بھگتنا پڑتا۔
سابق وزیر اعظم اس حملے کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب کیلئے سامنے آئے تو بہت سے لوگوں کے دلوں میں موجود یہ خدشہ بھی زائل ہوا کہ خدانخواستہ عمران خان کو کوئی زیادہ نقصان تو نہیں ہوا۔ خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم کا حوصلہ اور مورال بلند دکھائی دیا اور ان کی صحت کے متعلق حقائق سب کے سامنے آگئے، جو یقیناً ان کے چاہنے والوں اور کارکنوں کیلئے اطمینان کی بات ہے۔
اپنے خطاب میں عمران خان نے ایک بار پھر اس حملے کا الزام انہی تین افراد کے سر رکھا، جن کے نام وہ حملے کے بعد اسپتال میں دوران علاج بتا چکے تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا جب تک یہ تین افراد استعفے نہیں دیتے، عوام احتجاج جاری رکھیں۔ جہاں تک لانگ مارچ کی بات ہے، عمران خان کے زخمی ہونے کے بعد چونکہ اس مارچ کو لیڈ کرنے والے کنٹینر کو تفتیش اور تحقیقات کیلئے قانون کی گرفت میں لیا جاچکا ہے اور عمران خان خود بھی زیر علاج ہیں، اس لیے یہی محسوس ہوتا ہے فی الحال لانگ مارچ ملتوی قرار پائے گا۔
لانگ مارچ کے التوا کی صورت میں تحریک انصاف کی جاری حکومت مخالف تحریک کا کیا بنے گا، ایسا لگتا ہےعمران خان کی مکمل صحتیابی تک تحریک انصاف حکومت کیلئے اس طرح کی پریشانی نہیں بن سکے گی، جیسے خود عمران خان کی موجودی میں بنی ہوئی تھی۔ حملہ آور کون ہے، منصوبہ بندی کس نے کی، اس سب سے قطع نظر لگتا یہی ہے کہ عمران خان کی ”فارم” میں واپسی تک حکومت کیلئے کچھ سکون کا سانس لینے کا وقفہ مل جائے گا۔
مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس وقفے کو قومی سطح پر مصالحت اور انتشار کی موجودہ فضا کو ختم کرنے کیلئے بروئے کار لانے کی فکر کرے، مہلتِ عمل جان کر وقت ٹالنے کی کوشش نہ کرے۔ اس وقت ملک کو سب سے بڑی ضرورت قومی مصالحت اور سیاسی و معاشی استحکام کی ہے۔ اس کیلئے دونوں فریقوں کو اپنی اناؤں سے اوپر اٹھ کر اپنے اپنے مواقف سے ایک ایک قدم پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ خطرہ بھی خارج از امکان نہیں کہ دیگ کوئی اور لے اڑے اور سیاستدان باہمی جھگڑے میں ہاتھ ملتے رہ جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں