پی ڈی ایم سرخ لکیر عبور کرکے ملکی سلامتی داؤ پر نہ لگائے

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے کوئٹہ جلسے میں اپوزیشن اتحاد نے سرخ لکیر کو عبور کرلیا ہے جس کے بعد اس تحریک پر ہندوستانی بیانیہ کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا جارہا ہےاور اپوزیشن کے بیانات کے بعد شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں کہ آیا اپوزیشن اتحاد قوم کے مفاد میں کام کررہا ہے یا دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

سب سے حیران کن بیان جمعیت علما ء پاکستان کے رہنما ء اویس نورانی کی جانب سے آیا جنہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ایک آزاد ریاست ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبوں کو حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے ،یہ بیان بازی کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے غیر معمولی ہے اور اویس نورانی کے بلوچستان میں اس طرح کے دعوے کی کسی صورت حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی تاہم افسوسناک بات تو یہ ہے کہ پی ڈی ایم نے ان باتوں سے اتفاق کیا اور اویس نورانی کی مذمت نہیں کی ۔

اپوزیشن کے اس طرح کے متنازعہ بیانات پر ردعمل بھی سامنے آیا ، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے سوال کیا کہ کیا یہ بی جے پی کاجلسہ ہے یاپی ڈی ایم کا؟ وہ ٹھیک ہو سکتا ہے ، یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ پی ڈی ایم نے ریاست مخالف ایجنڈا اپنا کر روایتی حریف کے بیانیہ کو آگے بڑھایا ہے۔ بہت ساری جماعتوں نے ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب بلوچ علیحدگی پسندوں کے علاوہ کسی نے اس طرح کے دعوے کیے ہیں، اہم بات تو یہ ہے کہ اویس نورانی کو ایسے دعوے کرنے پر مجبور کس نے کیا؟

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی کئی ممنوعہ عنوانات اٹھائے ، خاص طور پر لاپتہ افراد کے لئے ریاست سے مطالبہ کرنا غیر معمولی تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ معاملہ برسوں سے حل طلب ہے لیکن کسی نے بھی ریاستی اداروں پر براہ راست الزامات عائد نہیں کیے۔ اس سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ پی ڈی ایم اس وقت کی سالمیت کو داؤ پر لگارہی ہے۔

مریم نواز نے متعدد دیگر امور کو بھی اجاگر کیا جیسے بلوچ جاگیردار اکبر بگٹی کے قتل اور ڈاکٹر شازیہ کے جنسی استحصال کاکیس۔ یہ معاملات طویل عرصے سے ایک طرف دبے ہوئے تھے لیکن مریم نوازنے ایک بار پھر انہیں عوامی طور پر اٹھا کر ملک میں انتشار کی کیفیت پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے اب ریاستی اداروں کو عوام میں زیادہ آسانی سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی ایم کو بڑی سیاسی حمایت حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم ریاست مخالف پالیسی پر عمل کرکے اپنے مفادات حاصل کرسکتی ؟،اپوزیشن عمران خان کی حکومت گرانے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہی ہے اور کسی بھی حد کو پار کرنے کیلئے تیار ہے لیکن اپوزیشن قیادت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اختلاف رائے کے نام پر ریاستی اداروں کی بدنامی اور دشمن کے ایجنڈے کو فروغ دینے سے کچھ حاصل حصول نہیں ہوگا بلکہ ملک میں انتشار پھیلے گا جس سے دشمن فائدہ اٹھائے، اپوزیشن حد میں رہ کر تحریک چلائے لیکن سرخ لکیر کو عبور کرکے ملکی سلامتی داؤ پر نہ لگائے۔

Related Posts