دنیا نے دیکھا ہے کہ کیسے ایک چائے والا نریندر دامودر داس مودی 2014 ء میں ہندوستان کی سیاسی درجہ بندی کی سیڑھی پر چڑھ کر ملک کا 14واں وزیرِ اعظم بن گیا۔ نریندر مودی شمال مشرقی گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے وڈ نگر میں پیدا ہوئے اور وہیں ان کی پرورش ہوئی ، وہ جلد ایک اہم منصب پانے میں کامیاب ہوئے اور2001 سے 2014 تک گجرات کے وزیراعلیٰ رہے۔
وہ وارانسی کے ممبر پارلیمنٹ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رکن ہیں۔ وہ ہندوستان کی آزادی کے بعد پیدا ہونے والے پہلے وزیر اعظم ہیں ، اٹل بہاری واجپائی کے بعد لگاتار دو بار جیتنے والے دوسرے نان کانگریس اور لوک سبھا میں اکثریت کے ساتھ 2 مرتبہ جیتنے والے پہلے غیر کانگریسی وزیر اعظم ہیں۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کا عروج ہندوتوا پر مبنی ہے جسے اس طرح آسان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کے لئے ہے۔ اس تصور کے بتدریج عروج نے ہندوستان کے تصور کو سب سے بڑے سیکولر جمہوریت کی حیثیت سے داغدار کردیا ہے۔ شائد اس سے وزیر اعظم مودی ، بی جے پی اور آر ایس ایس کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس کا اثر خطے میں بسنے والے لاکھوں افراد کی زندگی اور جنوبی ایشیاء میں امن پر پڑتا ہے۔ کون اس خیال سے متفق نہیں ہوگا کہ حتمی طور پر پورا براعظم ایشیاء اور پوری دنیا اس سے متاثر ہوگی؟
حالیہ دہائی میں ہم نے ہندوستان کے بہت سارے حصوں میں انسانی حقوق کی پامالی دیکھی ہے جس نے علیحدگی پسند تحریکوں کو ایک عروج اور شدت دی۔ پاکستان میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے شمالی حصوں میں ہونے والی شورشوں کا الزام بھی بھارت پر عائد کیا جاتا ہے۔ دوسرے ہمسایہ ممالک بھی اپنے علاقوں ، معاشرتی اور سیاسی نظام میں ہندوستانی مداخلت کے خلاف مستقل طور پر آواز بلند کررہے ہیں۔ غیر قانونی طور پر جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی بدترین صورت اور کیا ہو سکتی ہے جس نے 5 اگست 2019 سے کشمیرکی قانونی حیثیت اور انسانی بحران کو جنم دیا۔
نریندر مودی حکومت نے ہندوستانی معیشت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے اور صحت کی دیکھ بھال اور سماجی بہبود کے پروگراموں پر خرچ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستانی بیوروکریسی میں کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے انہوں نے پلاننگ کمیشن کو ختم کرکے حکومت کو مرکزی حیثیت دے دی۔ اس پالیسی نے بی جے پی مخالف ریاستوں اور شہروں کو ان کے ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ سے محروم کردیا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مودی کے دور حکومت میں ہندوستان کو جمہوری پسماندگی کا سامنا ہے۔
2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی فتح کے بعد مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کردیا۔ ان کی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون بھی متعارف کرایا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ مودی اپنے ہندو قوم پرست عقائد اور 2002 کے گجرات فسادات کے دوران ان کے مبینہ کردار اور بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کا ایک مرکز بنے ہوئے ہیں۔
علاقائی تعاون کی تنظیم سارک صرف ہندوستانی تسلط پسندانہ انداز کی وجہ سے سالوں سے غیر فعال ہے۔ تقریباً 2 ارب افراد غربت ، افلاس اور آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سے دوچار ہیں۔ اسٹریٹجک تنازعات کی وجہ سے دفاعی اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ انسانی سلامتی کیلئے اقدامات علاقائی ایجنڈے کی ترویج کے تحت نہیں اٹھائے جاسکتے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہندوستانی حکومت نے سارک پلیٹ فارم، اس کی سربراہی، ترقی ، امن اور معاشی خوشحالی کے لئے علاقائی تعاون کے عملی منصوبوں کو سبوتاژ کیا۔
کوئی بھی اس حقیقت کو چیلنج یا تبدیل نہیں کرسکتا کہ ایک دن ہم سب کو اپنی زندگی کی پختگی کے ساتھ مرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم مرنے کے بعد کس طرف جانا جانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی سے بھی میرا یہی سوال ہے۔ جناب ، آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اپنی ہی ریاست اور لوگوں اور سارک کو غیر فعال بنانے کے بعد کس علاقے پر قبضہ کیا تھا اور اس خطے میں کیا تباہی و بربادی پھیلائی گئی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو جنم دینے کے ذریعہ اپنے ہی ملک کے اندر دراڑوں کو گہرا کرنے اور پھیلانے کے بعدوزیر اعظم نریندر مودی کے پاس اب بھی ایک انوکھا تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنے غیر دانشمندانہ اقدامات پر نظر ثانی کریں۔
سارک کو دوبارہ متحرک ،کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال اور پڑوس میں انسانی حقوق کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لئے جامع فریم ورک کی تشکیل کے ذریعہ تنازعات کو حل کرنے اور دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے ذریعے غربت کے خاتمے کا ایکشن پلان اور بڑے معاشی فریم ورک اور علاقائی آب و ہوا کے جامع ایجنڈے کے ذریعہ ہم سب مل کر اس خطے کو پرامن اور خوشحال بنا سکتے ہیں۔