قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے انجینئرز کی ہڑتال کے باوجود اپنی پروازوں کا سلسلہ تیسرے روز جزوی طور پر بحال کر دیا ہے تاہم مختلف شہروں میں تاخیر اور منسوخیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور سے کراچی اور کوئٹہ جانے والی تین پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ملک بھر میں 89 پروازوں کی آمد و روانگی میں تاخیر ریکارڈ کی گئی۔ کئی پروازیں 13 گھنٹے تک تاخیر کا شکار رہیں۔
اسلام آباد ایئرپورٹ سے 26 پروازیں ایک سے 12 گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئیں جبکہ ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، پشاور اور سکردو سے 25 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
اسی طرح لاہور ایئرپورٹ سے 27 پروازوں کی روانگی میں 1 سے 13 گھنٹے کی تاخیر ریکارڈ کی گئی۔ کراچی ایئرپورٹ پر بھی 11 پروازیں 11 گھنٹے سے زائد تاخیر سے چل سکیں۔
ذرائع کے مطابق پروازوں کی تاخیر اور مشکلات کی بنیادی وجہ جہازوں کی کلیئرنس سرٹیفکیٹس جاری کرنے سے انجینئرز کا انکار ہے۔
انجینئرز کا مؤقف ہے کہ طیاروں میں پرزہ جات کی کمی اور غیر تسلی بخش کام کے حالات کے باعث وہ پروازوں کو قابلِ پرواز قرار نہیں دے سکتے۔ انجینئرز نے تنخواہوں میں اضافے اور کام کے ماحول کی بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب پی آئی اے انتظامیہ نے انجینئرز کے اقدام کو ہڑتال قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور دو سینئر ایس اے ای پی افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق متبادل انتظامات کے ذریعے پروازوں کا عمل جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے تاہم شیڈول میں خلل بدستور موجود ہے۔
مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کے لیے درج ذیل ذرائع استعمال کریں،پی آئی اے کی ویب سائٹ پر جا کر اپنی پرواز کا نمبر اور تاریخ درج کریں۔
پی آئی اے کانٹیکٹ سینٹر پر براہ راست رابطہ کریں، خاص طور پر اگر پرواز اگلے تین گھنٹوں کے اندر شیڈول ہے۔روانگی یا آمد کے ایئرپورٹ کی ویب سائٹ پر ریئل ٹائم فلائٹ اسٹیٹس چیک کریں تاکہ تازہ ترین معلومات حاصل ہو سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








