جھلسنے والے مریضوں کیلئے ملک میں پہلا اسکن بینک قائم

تازہ ترین

تازہ ترین

Pims establishes first Skin Bank
ONLINE

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) نے ملک کا پہلا اسکن بینک قائم کر دیا ہے جس سے جھلسنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے بڑی سہولت میسر آئے گی۔

یہ منصوبہ ایک طویل عرصے سے زیرِ غور تھا، جس کا مقصد مریض کی اپنی جلد کو لیبارٹری میں کلچر کر کے دوبارہ متاثرہ حصے پر لگانا ہے تاکہ زخم جلدی بھر سکیں۔

اس سے قبل اگر جسم کا کوئی حصہ جل جاتا تھا تو مریض کے دوسرے حصے سے جلد لے کر لگائی جاتی تھی تاہم اب شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی مالیکیولر بایولوجی لیبارٹری میں جلد تیار کی جائے گی اور پمز کے برن وارڈ میں داخل مریضوں پر استعمال کی جائے گی۔

ہیڈ آف برن انٹینسو کیئر یونٹ ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی کے مطابق دنیا بھر میں بلڈ بینک کی طرح اسکن بینک بھی قائم ہیں جو جھلسنے والے مریضوں کو بروقت سہولت فراہم کرتے ہیں۔

لاہور میں خاتون پر وحشیانہ تشددکی ویڈیو، عوام برہم

ان کا کہنا تھا کہ 80 سے 100 فیصد جھلسنے والے مریضوں کے لیے اسکن گرافٹ ناگزیر ہوتے ہیں۔ ماضی میں اس کی سہولت میسر نہیں تھی لیکن اب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی منظوری کے بعد یہ جلد مریضوں پر استعمال کی جا سکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مصنوعی جلد کہلاتی ضرور ہے لیکن اس کے لیے ڈونر کی ضرورت رہتی ہے اور مریض کے بلڈ گروپ کے مطابق میچ کرنا لازمی ہے۔ کلچر کی گئی جلد پانچ سال تک محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔

ان کے مطابق عام ڈریسنگز پر مارکیٹ میں 55 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک لاگت آتی ہے، لیکن لیبارٹری میں تیار کردہ جلد اس کے مقابلے میں کم خرچ ہوگی اور دوبارہ ڈریسنگ کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

Related Posts