اہل غزہ کو خانہ جنگی کا شکار ملک جنوبی سوڈان منتقل کرنے کی تیاری

تازہ ترین

تازہ ترین

Plans underway to relocate Gaza residents to war-torn South Sudan Ask ChatGPT
FILE PHOTO

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں کو جنوبی سوڈان منتقل کرنے کے لیے اس افریقی ملک کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں مصروف ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنے ذرائع سے انکشاف کیا ہے کہ یہ منصوبہ جنوبی سوڈان میں فلسطینی مہاجرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے پر مشتمل ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ یہ عارضی کیمپ مستقل جلاوطنی میں بدل جائیں گے۔

صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس اقدام کو voluntary migration یعنی رضاکارانہ ہجرت کا نام دیا ہے اور اسے واشنگٹن خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ حکمتِ عملی سے ہم آہنگ قرار دیا ہے۔

لائیو منٹ کے مطابق یہ پالیسی ماضی میں صومالیا، سوڈان، انڈونیشیا اور سامالی لینڈ جیسے ممالک کے ساتھ غزہ کی آبادی کو بیرون ملک منتقل کرنے کی بات چیت ہوتی رہی ہے۔

اس منصوبے پر خطے میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ یورونیو کے مطابق مصر نے واضح طور پر مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کو جنوبی سوڈان منتقل کرنے سے خطے میں مہاجرتی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔

دوسری جانب، ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنوبی سوڈان کے سول سوسائٹی رہنماؤں نے اس تجویز کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا: ہم کوئی کوڑا دان نہیں جہاں لوگوں کو پھینک دیا جائے ۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ جیسی جنگ زدہ پٹی سے نکال کر جنوبی سوڈان جیسے عدم استحکام کے شکار ملک میں منتقل کرنا Out of the frying pan, into the fire کی زندہ مثال ہے، یعنی ایک خطرے سے نکال کر دوسرے، شاید زیادہ بڑے خطرے میں دھکیل دیناجو کہ آسمان سے گرا اور کھجور میں لٹکا کے مصداق ہے۔

روئٹرز کے مطابق جنوبی سوڈان اس وقت خانہ جنگی، بھوک اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی جیسے بحرانوں سے دوچار ہے، ایسے میں غزہ کے بے گھر فلسطینی وہاں مزید خطرات میں گھِر جائیں گے۔

ناقدین نے اسے ممکنہ نسلی صفائی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کو ان کے وطن سے مستقل طور پر محروم کرنے کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگر اس منصوبے کو اگر عملی جامہ پہنایا گیا تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ افریقہ میں بھی ایک نیا انسانی بحران جنم لے گا، جہاں پہلے ہی لاکھوں افراد جنگ، بھوک اور بے گھری کے مسائل سے دوچار ہیں۔

Related Posts