اسرائیل القدس شہر کی تاریخ کیسے مٹا رہا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Greater Israel Biblical Plan

پچھلی نشست میں القدس شہر میں پھیلائی جانے والی جعلی یہودی قبروں پر روشنی ڈالی تھی جن کی تعداد 13000 سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے قدیم ترین تاریخی قبرستانوں کو تیزی سے مٹایا جا رہا ہے۔

دجالی ریاست اسرائیل کے ہاتھوں نہ صرف زندہ مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے بلکہ اس کے دستِ برد سے اب مُردے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ مقبروں کی قدیم اور روحانی تاریخ رکھنے والا شہر بیت المقدس آج کل اسرائیلی یہودی کاری کی یلغار کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

شہر میں واقع سب سے قدیم اسلامی قبرستان باب الرحمہ مسجد اقصیٰ کی مشرقی دیوار سے متصل ہے اور اس کے ساتھ چار مزید تاریخی اسلامی مقابر اور درجنوں چھوٹے خاندانی قبرستان موجود ہیں مگر یہ تمام مقدس مقامات مسلسل اسرائیلی منصوبوں کی زد میں ہیں جن کا مقصد انہیں مسمار کر کے وہاں یہودی بستیاں اور منصوبے قائم کرنا ہے تاکہ شہر کی اسلامی شناخت مٹا کر اس کی تاریخی و مذہبی صورت کو بدل دیا جائے۔

اسرائیلی قابض حکام نہ صرف خود مسلمانوں کی قبروں کو مسمار کر رہے ہیں بلکہ یہودی آبادکاروں کو بھی ان میں گھسنے، قبریں کھودنے اور ان پر تلمودی رسومات ادا کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں۔

نکبتِ فلسطین 1948ء سے لے کر آج تک ان مقابر پر بارہا حملے اور بے حرمتی کے واقعات ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ مزید تیز ہوگیا ہے۔

بیت المقدس میں موجود پانچ تاریخی اسلامی قبرستانوں میں باب الساہرہ، باب الرحمہ، الیوسفیہ شامل ہیں جبکہ مامن اللہ اور نبی داؤد کے مقابر پر اسرائیل نے مکمل قبضہ جما کر ان میں دفن پر پابندی لگا دی ہے۔

شہر کے چھوٹے خاندانی قبرستانوں میں سے بیشتر کو اسرائیل نے 1948ء میں مسمار کر دیا تھا اور بقیہ کو 1967ء کی جنگ میں اس وقت تباہ کیا جب اس نے پورے بیت المقدس پر قبضہ مکمل کیا۔

ان مقابر میں صحابہ کرامؓ، تابعین، مجاہدین، علمائے دین، امراء اور ممتاز فلسطینی شخصیات کے مزارات موجود ہیں۔ بیشتر ان میں وہ شہداء ہیں جنہوں نے صلیبی جنگوں کے دوران یا عہد ایوبی، مملوکی اور عثمانی ادوار میں شہر کے دفاع میں جان دی۔ بعض قبور ان شہداء کی بھی ہیں جو برطانوی انتداب کے زمانے یا پھر اسرائیلی قبضے کے دوران شہر کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

بے حرمتی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ:
بیت المقدس کے اسلامی مقابر 1948ء کی نکبت سے اب تک قابض اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے مسلسل حملوں اور بے حرمتی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان قبرستانوں میں جگہ کی کمی اس قدر شدید ہو گئی کہ مقامی فلسطینیوں کو مجبوراً اپنے مرحومین کو پرانی قبروں پر دفنانا پڑا، بشرطیکہ اس قبر میں آخری تدفین کو کم از کم آٹھ سال گزر چکے ہوں۔ قابض حکام اور آبادکاروں کی جانب سے ان مقدس مقامات پر ہونے والی نمایاں خلاف ورزیوں میں یہ کارروائیاں شامل ہیں:

مسلمانوں کو اپنے مردوں کی تدفین سے روک دینا۔ قبروں کی ظاہری شکل بدل کر ان کا یہودی کاری کرنا اور ان کے بڑے حصے کاٹ لینا۔ بعض حصوں کو توراتی باغات میں تبدیل کرنا، گاڑیوں کی پارکنگ یا سڑکوں کے لیے استعمال کرنا، اور بعض کو کچرا پھینکنے کی جگہ بنا دینا۔

قبروں کو مسمار کر کے ان کے کتبے اور شناختی کتبیاں توڑ دینا یا ہٹا دینا۔ مسلمانوں کی قبروں کی جگہ جعلی قبریں بنا کر انہیں جدید یہودی قبرستان میں بدل دینا۔ وسیع پیمانے پر کھدائی کر کے مبینہ یہودی قبروں کی تلاش۔ یہودی آبادکاروں کا خاص طور پر باب الرحمہ قبرستان میں بگل بجانا۔ قبروں پر کھڑے ہو کر یہودی دعائیں، تلمودی رسومات اور رقص کی ادائیگی۔

ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد ان قبرستانوں کی اسلامی شناخت مٹانا، انہیں یہودی قرار دے کر مکمل قبضہ جمانا اور وہاں بستیاں قائم کرنا ہے، تاکہ بیت المقدس میں عرب اور مسلم تاریخ کا ہر نشان مٹا دیا جائے۔

بیت المقدس کے اہم اسلامی مقابر:
بیت المقدس میں پانچ تاریخی اسلامی قبرستان موجود ہیں، جن میں سب سے نمایاں اور وسیع مقبرہ مامن اللہ ہے۔ یہ قبرستان مسجد اقصیٰ کے باب الخلیل سے تقریباً دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 200 دونم (دو لاکھ مربع میٹر) ہے، جو اسے شہر کا سب سے بڑا اسلامی قبرستان بناتا ہے۔

یہ عظیم قبرستان ان صحابہ کرامؓ تابعینؒ اور مجاہدین کے مزارات کا مسکن ہے جو 15 ہجری (636ء) میں بیت المقدس کے اسلامی فتح کے دوران شہید ہوئے۔

اس میں تقریباً 70 ہزار شہداء بھی مدفون ہیں، جنہیں جولائی 1099ء میں صلیبیوں نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر قبضے کے دوران بے دردی سے شہید کیا۔

اسی مقام پر وہ شہداء بھی آرام فرما ہیں، جو 25 ربیع الثانی 583ھ (4 جولائی 1187ء) کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی قیادت میں بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرانے کی تاریخی جنگ میں شہید ہوئے۔

عثمانی دور کے اواخر میں اس قبرستان کے گرد ایک مضبوط فصیل تعمیر کی گئی اور 1927ء تک یہاں تدفین جاری رہی، جب مجلسِ اعلیٰ اسلامی نے شدید گنجائش کی کمی کے باعث مزید تدفین پر پابندی لگا دی۔ 1947ء میں برطانوی فوج نے اس پر قبضہ کر کے اس کے حصے منہدم کیے۔

نکبتِ 1948ء کے بعد یہ مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کی زد میں رہا، یہاں تک کہ اسرائیل نے ایک قانون منظور کر کے اسے املاکِ غائبین قرار دے دیا۔

اس کے بعد منظم یہودی کاری اور تاریخ مٹانے کا عمل شروع ہوا، جس کے تحت اس کے تقریباً 95 فیصد رقبے پر قبضہ کر کے اسے عام باغات اور سڑکوں میں بدل دیا گیا۔ 1957ء میں اس کے بڑے حصے پر اسرائیلی حکام نے حدیقۃ الاستقلال قائم کیا، جبکہ 1985ء میں اس کے ایک اور حصے کو گاڑیوں کی پارکنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔

مزید یہودی کاری اور بے حرمتی:
2002ء میں اسرائیل نے اعلان کیا کہ مقبرہ مامن اللہ کی زمین پر قابض عدالتوں کا ایک وسیع عمارت تعمیر کی جائے گی۔

دو سال بعد اس نے 21 دونم (21 ہزار مربع میٹر) پر مشتمل ایک یہودی متحف التسامح کا سنگ بنیاد رکھا، جسے امریکی یہودی تنظیم روزنتال فاؤنڈیشن نے فنڈ فراہم کیا۔ 2019ء میں بلدیۂ بیت المقدس نے اس تاریخی قبرستان کے بعض حصے مسمار اور ہموار کر کے وہاں ایک سڑک تعمیر کر دی۔

اس کے علاوہ اسرائیلی حکام اس قبرستان کی مٹی پر ہر سال شراب کا بین الاقوامی میلہ منعقد کرتے ہیں، جس میں دنیا بھر سے آنے والے موسیقی کے بینڈز حصہ لیتے ہیں۔

مقبرہ باب الرحمہ:
یہ بیت المقدس کا سب سے قدیم اسلامی قبرستان ہے، جو مسجد اقصیٰ کی مشرقی دیوار کے ساتھ واقع ہے۔ یہ باب الاسباط سے شروع ہو کر جنوبی جانب اموی محلات کے قریب مسجد کے فصیل کے آخر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس قبرستان میں کئی عظیم مسلم رہنماؤں اور دو صحابہ کرامؓ کی قبریں ہیں: حضرت عبادہ بن صامتؓ، جو خلافتِ فاروقی میں بیت المقدس کے گورنر تھے اور حضرت شداد بن اوسؓ۔

یہاں متعدد علما، قاضیانِ شرع اور نکبت 1948ء اور نکسہ 1967ء کے شہداء بھی مدفون ہیں۔ اس کی اصل مساحت تقریباً 95 دونم (95 ہزار مربع میٹر) تھی، مگر قابض بلدیہ نے اس کے بڑے حصے پر قبضہ کر کے وہاں یہودی بستوں کے لیے توراتی باغات قائم کر دیئے۔ 2006ء میں اسرائیل نے اس کے جنوب مشرقی حصے میں تدفین پر پابندی عائد کر دی، یہ کہہ کر کہ یہ مقام مبینہ ہیکل کے پتھروں کے قریب واقع ہے۔

مقبرہ باب الرحمہ پر یہودی آبادکاروں کے حملے وقفے وقفے سے جاری رہتے ہیں۔ یہ گروہ بگل بجانے، تلمودی دعائیں پڑھنے، قبروں کی بے حرمتی کرنے، ان کی کھدائی اور کتبے توڑنے جیسی کارروائیوں میں ملوث ہیں، تاکہ اس تاریخی قبرستان کی اسلامی شناخت مکمل طور پر مٹا دی جائے۔

مقبرہ باب الأسباط (المقبرہ الیوسفیہ)
یہ قبرستان المقبرہ الیوسفیہ کے نام سے بھی معروف ہے اور غالب گمان ہے کہ اس کا تعلق دورِ ایوبی سے ہے۔ یہاں بیت المقدس کی کئی قدیم و معزز خاندانوں کے افراد مدفون ہیں، جو ماضی میں مسجد اقصیٰ کے آس پاس رہائش پذیر تھے۔

یہ قبرستان باب الأسباط کے شمال میں ایک ٹیلے پر واقع ہے اور مسجد اقصیٰ کی فصیل سے اس کا فاصلہ صرف 10 سے 15 میٹر ہے۔ اس میں نکسہ 1967ء کے شہداء اور 1990ء کی پہلی مسجد اقصیٰ قتل عام کے شہداء کا یادگار نصب ہے۔

یہاں ترب الإخشيدیین بھی موجود ہے، جہاں مصر میں اخشیدی سلطنت کے بانی محمد بن طغج الاخشید دفن ہیں، اس کے علاوہ شہر کے دیگر ممتاز خاندانوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔ اس قبرستان کو بھی اسرائیلی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے، جن میں اس کے کچھ حصوں کو کاٹ کر انہیں یہودی بستوں کے لیے توراتی باغات میں بدل دینا شامل ہے۔

2004ء میں اس وقت کے بلدیۂ بیت المقدس کے سربراہ اوری لوپوليانسکی نے متعدد قبروں کو مسمار کرنے اور ان کی مرمت پر پابندی کا حکم جاری کیا۔ یہ سلسلہ برسوں جاری رہا۔ 2014ء میں اسرائیلی حکام نے یہاں 20 قبریں تباہ کر کے ان پر سیمنٹ ڈال دیا تاکہ دوبارہ تدفین نہ ہو سکے۔ اپریل 2015ء میں تین اسرائیلی لڑکیوں نے ایک قبر پر ستارۂ داؤد اور عبرانی زبان میں عبارات لکھ کر مزید بے حرمتی کی۔

مقبرہ باب الساہرہ (مقبر ہ المجاہدین)
یہ قبرستان مقبر المجاہدین یا بقیع الساہرہ کے نام سے بھی معروف ہے۔ یہ پرانے شہر کی شمالی سمت میں واقع ہے اور مسجد اقصیٰ کے باب الساہرہ سے محض چند میٹر کے فاصلے پر ہے۔

اس کی بنیاد ایوبی دور میں رکھی گئی اور یہاں وہ علما اور شہداء مدفون ہیں جو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی قیادت میں بیت المقدس کی آزادی کی مہم میں شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ یہاں فلسطین کے معروف مؤرخین کی قبریں بھی موجود ہیں۔

مقبرہ النبی داود
یہ قبرستان جبل صہیون پر واقع ہے اور اس میں متعدد اسلامی قبریں شامل ہیں، جن میں سے بعض بیت المقدس کے قدیم دجانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔

قابض اسرائیلی حکام نے یہاں فلسطینیوں کی تدفین مکمل طور پر ممنوع کر دی ہے اور اس کو مکمل طور پر یہودی شکل دے دی ہے۔ اس عمل میں قبروں کے ڈھانچے کو بدلنا، ان پر یہودی علامات اور شعارات لگانا شامل ہے، یہ کہہ کر کہ یہاں مبینہ طور پر بعض تاریخی یہودی شخصیات مدفون ہیں۔

Related Posts