دہشت گردوں کو نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے، وزیر اعظم

تازہ ترین

تازہ ترین

PM Imran Khan stresses on zero-tolerance, swift prosecution of terrorists

اسلام آباد:وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ایپکس کمیٹی نے نیکٹا کے کردار کو مضبوط بنانے اور انسداد دہشت گردی کے محکموں کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور نفرت انگیز تقاریر کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، دہشت گردوں کو نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے۔

پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی، چاروں صوبائی وزرائے اعلی اور وفاقی وزراء شریک ہوئے جس میں حالیہ پشاور واقعے اور افغانستان کی صورتحال اور اجلاس میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں عدم شرکت کے معاملے پر ممکنہ ردعمل بھی زیر بحث آیا۔

اجلاس کے حوالے سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے قومی ایکشن پلان کے نفاذ کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بین الصوبائی مسائل کے لیے صوبائی حکومتوں سے تعاون درکار ہے۔

مزید پڑھیں:چوروں کا ایجنڈا ناکام بنادیں گے، عدم اعتماد والے شوق پورا کرلیں۔ وزیراعظم

ایپکس کمیٹی کی جانب سے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کی گئی اور ایپکس کمیٹی نے نیکٹا کے کردار کو مضبوط بنانے اور انسداد دہشت گردی کے محکموں کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے جدید فرانزک لیبز قائم کرکے موثرتحقیقات کے لیے مزید وسائل مختص کریں۔

کمیٹی نے عدالتوں میں دہشت گردی کے مقدمات کو حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ دہشت گردی اور نفرت انگیز تقاریر کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔

دہشت گردوں کو نشان عبرت بنانے اور قومی ایکشن پلان کا مکمل اور بھرپور نفاذ ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بدامنی پھیلانے والے عناصر کو شکست دینے کے لیے پوری قوم متحد ہے، ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

Related Posts