وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے ملاقاتیں کیں۔ سیلاب زدگان کو درپیش مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور متاثرین کی آباد کاری میں بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
اگر28 اگست تک گلگت بلتستان میں سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا جائزہ لیا جائے تو 17 افراد جاں بحق اور 6 زخمی بھی ہوئے اور 7 ارب 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کا معاشی نقصان ہوا۔ 22 پاور ہاؤسز کو نقصان پہنچا جن میں سے 19 کو عارضی طور پر بحال کردیا گیا تھا۔
گلگت بلتستان میں 49 سڑکوں کو بھی سیلاب سے نقصان پہنچا، 41 عارضی بحال ہوئیں، پینے کے پانی کی 78 سپلائز متاثر ہوئیں۔ 65 عارضی طور پر بحال کی گئیں۔ 56 پلوں کو نقصان پہنچا جن میں سے 43عارضی بحال کردئیے گئے تاہم گزشتہ 5 روز میں گلگت بلتستان میں سیلاب سے مزید نقصان کے بھی خدشات ہیں۔
بھارت اور پاکستان کا جموں و کشمیر پر تنازعہ گزشتہ 75سال سے چل رہا ہے اور گلگت بلتستان کو اسی ریاست کا حصہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، صوبے کا درجہ نہ ملنا اور عوامی مسائل کے حل میں طویل تعطل اس کی بڑی مثالیں قرار دی جاسکتی ہیں جن کا اس خوبصورت خطے کے لوگوں کو سامنا ہے۔
کم و بیش 81 لاکھ نفوس پر مشتلم گلگت بلتستان کا کل رقبہ 7 ہزار 971 مربع کلومیٹر ہے، یہاں زیادہ تر بلتی، شینا، کھوار اور وخی زبانیں بولی جاتی ہیں اور گلگت، بلتستان اور دیا میر یہاں کے 3 ڈویژنز ہیں۔ اس کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان کی پٹی اس خطے کو تاجکستان سے الگ کرنے کا باعث ہے۔
خوابناک خوبصورتی سے مزین یہ علاقہ 7000 میٹر سے بلند 50 چوٹیاں بھی رکھتا ہے اور دنیا کے 3 بلند ترین اور دشوار گزار ترین پہاڑی سلسلے یہیں آ کر ملتے ہیں جنہیں ہم ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے نام سے جانتے ہیں۔
قراقرم کے پہاڑی سلسلے کو یاد کیجئے تو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی گلگت بلتستان کا ہی حصہ ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے دورے کے موقعے پر کہا کہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جس سے گلگت بلتستان کے سیلاب زدگان کیلئے امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔
سیلاب کے باعث گلگت بلتستان میں سیر و سیاحت کے شعبے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہاں کے لوگ محنتی، سادہ لوح، خوش اخلاق اور ملنسار ہیں۔ مذہبی عقائد کی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ضرور ہیں تاہم ان میں مذہبی شدت پسندی کا عنصر موجود نہیں جو پاکستان کی حقیقی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ خطہ طویل عرصے سے بعض بنیادی انسانی حقوق مثلاً ووٹ کے حق سے محروم رہا ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی بھی 2009 کے گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت قائم ہوئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حکومت زبانی کلامی وعدوں سے بڑھ کر یہاں کے لوگوں کیلئے عملی اقدامات بھی اٹھائے۔