لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) سے مشاورت کے بعد حکومت کے خاتمے کے لیے تمام قانونی، آئینی اور سیاسی حربے استعمال کئے جائیں گے۔
شہباز شریف نے پی پی پی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹوزرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا رہے گا، ہر لحاظ سے سفارتی، سیاسی تعاون پہلے سے بھی زیادہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی نے پھر سر اٹھایا ہے، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور بلوچستان میں پے در پے دہشت گردی کے حملے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دل کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اور ان شااللہ آخری دم تک ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ کہا کہ یہ بات آپ کی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ چاہے پیپلزپارٹی کا زمانہ تھا تو اس وقت ضرب مومن کا آغاز ہوا اور جب نواز شریف کا دور آیا تو ضرب عضب اور ردالفساد کے آپریشن ہوئے اور اس ملک کے اندر دہشت گردی کا تقریباً خاتمہ ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ جو خونخوار اور دہشت گرد لوگ ہیں، ان کو جہنم رسید کرنے کے لیے ہماری افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے ہمیشہ کی طرح اب بھی جام شہادت نوش کیا۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں تحریک انصاف نے ناکامی اور تباہی مچائی ہے، اسی طرح دہشت گردی کے حوالے سے بھی ان کا رویہ اور کارکردگی پوری قوم کے سامنے ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ پچھلے ساڑھے تین سال میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی کہ جو ان کی حکومت سے پہلے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا اور فعال کام کرتا تھا، اس کو فعال کرتے لیکن اس کو بالکل سرد خانے میں ڈال دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج سابق صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو تشریف لائے اور مریم نواز، خواجہ سعد رفیق، حمزہ شہباز اور مریم اورنگ زیب سمیت ہم سب نے ان کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہا ہے۔
مزید پڑھیں: آصف زرداری شہباز شریف کے ظہرانے میں پرہیزی کھانا اپنے ہمراہ لائے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








