پیرس اور مضافاتی علاقوں میں مساجد کے باہر سوروں کے سر پھینکنے کے افسوسناک واقعات نے ایک بار پھر مسلم کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 9 مساجد کے باہر سور کے سر پھینکے گئے، جن پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا نام نیلے رنگ کی سیاہی سے لکھا ہوا تھا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس واقعے کو نسلی اور مذہبی تعصب پر مبنی ممکنہ نفرت انگیز جرم قرار دیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پیرس پولیس چیف لوراں نونیز نے تصدیق کی کہ یہ مکروہ حرکت منگل کے روز سامنے آئی اور امکان ہے کہ مزید مقامات پر بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔
At least nine pig heads found outside several Paris mosques
➡️ https://t.co/fZeflidhCJ pic.twitter.com/65yDwJSyZt— FRANCE 24 (@FRANCE24) September 9, 2025
ان کا کہنا تھا کہ پولیس انتہائی احتیاط کے ساتھ تحقیقات کر رہی ہے اور کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
فرانسیسی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حملوں کا تعلق پچھلے برس کے اُن واقعات سے بھی ہو سکتا ہے، جن میں مبینہ طور پر غیر ملکی مداخلت کے شبہات پائے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اس سال جون میں تین سربین شہریوں پر یہودی مقامات کی بے حرمتی کے الزامات لگے تھے جن میں روسی اثر و رسوخ کے امکانات کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔
فرانس میں یورپی یونین کی سب سے بڑی مسلم آبادی آباد ہے جبکہ یہ ملک اسرائیل اور امریکا کے بعد دنیا کی بڑی یہودی برادریوں میں سے ایک کا گھر بھی ہے۔
یورپی یونین ایجنسی فار فنڈامنٹل رائٹس کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے بعد سے یورپ بھر میں اسلاموفوبیا اور یہود مخالف واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
فرانس میں ہی وزارت داخلہ کے مطابق جنوری سے مئی 2025 کے دوران مسلم مخالف واقعات میں 75 فیصد اضافہ ہوا جبکہ انفرادی حملوں کی تعداد تین گنا بڑھ گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








