پیرس میں مساجد کے باہر سوروں کے سر کس نے پھینکے؟ تحقیقات شروع، اہم انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

Police launch probe after pig heads thrown outside several mosques in Paris
ONLINE

پیرس اور مضافاتی علاقوں میں مساجد کے باہر سوروں کے سر پھینکنے کے افسوسناک واقعات نے ایک بار پھر مسلم کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 9 مساجد کے باہر سور کے سر پھینکے گئے، جن پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا نام نیلے رنگ کی سیاہی سے لکھا ہوا تھا۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس واقعے کو نسلی اور مذہبی تعصب پر مبنی ممکنہ نفرت انگیز جرم قرار دیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پیرس پولیس چیف لوراں نونیز نے تصدیق کی کہ یہ مکروہ حرکت منگل کے روز سامنے آئی اور امکان ہے کہ مزید مقامات پر بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پولیس انتہائی احتیاط کے ساتھ تحقیقات کر رہی ہے اور کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

فرانسیسی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حملوں کا تعلق پچھلے برس کے اُن واقعات سے بھی ہو سکتا ہے، جن میں مبینہ طور پر غیر ملکی مداخلت کے شبہات پائے گئے تھے۔

یاد رہے کہ اس سال جون میں تین سربین شہریوں پر یہودی مقامات کی بے حرمتی کے الزامات لگے تھے جن میں روسی اثر و رسوخ کے امکانات کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔

فرانس میں یورپی یونین کی سب سے بڑی مسلم آبادی آباد ہے جبکہ یہ ملک اسرائیل اور امریکا کے بعد دنیا کی بڑی یہودی برادریوں میں سے ایک کا گھر بھی ہے۔

یورپی یونین ایجنسی فار فنڈامنٹل رائٹس کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے بعد سے یورپ بھر میں اسلاموفوبیا اور یہود مخالف واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

فرانس میں ہی وزارت داخلہ کے مطابق جنوری سے مئی 2025 کے دوران مسلم مخالف واقعات میں 75 فیصد اضافہ ہوا جبکہ انفرادی حملوں کی تعداد تین گنا بڑھ گئی۔

Related Posts