پاکستان میں کسی سیاسی بحران کا جنم لینا کوئی نئی بات نہیں رہی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاستدان ایک بار پھر پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر سیاسی مسائل کے حل میں ناکام نظر آتے ہیں اور فیصلہ عدالتوں پر چھوڑ دیا گیا۔
مسلسل ایسے واقعات کا رونما ہونا تشویشناک اور پارلیمانی کارروائی میں عدالتی دائرۂ کار کا بڑھنا پریشان کن ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عدالت ممکنہ طور پر ایسا فیصلہ کرنے کی کوشش کرتی ہے جو دونوں فریقین کیلئے قابلِ قبول ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
وہ سیاستدان ہی کیا جو مفاہمت پر مبنی فیصلہ قبول کرلیں، اس لیے صوبے یا ملکی ترقی میں حائل سیاسی بحران غیر معینہ مدت تک جاری رہتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے ضمن میں درپیش رہی۔
پنجاب اسمبلی کی موجودہ صورتحال پر کافی قانونی چارہ جوئی ہوئی جبکہ فیصلے سے ہمیشہ ایک فریق ناراض نظر آیا۔ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو نااہل کرنے پر ن لیگ نے اعتراض کیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا۔
ماضی قریب میں کچھ ایسے ہی فیصلے کے باعث سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی کے منحرف اراد کو چھوڑ کر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دینے پر تحریکِ انصاف ناخوش تھی۔
اب، جبکہ اسی کیس کی سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی ہے، محسوس ایسا ہوتا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے پنجاب میں فعال حکومت کی ضرورت مدنظر رکھتے ہوئے دونوں فریقین کی خوشی کیلئے فیصلہ دیا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا انتخاب 22جولائی کو ہوگا۔
حتمی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے بالکل درست فیصلہ دیا جو ووٹ کو عزت دیتا ہے اور کسی حد تک ضمنی انتخابات میں بھی استحکام یقینی بنانے کا باعث ہوگا۔ امید یہی کی جارہی ہے کہ فریقین 22 جولائی تک کے فیصلے کی پاسداری کرینگے۔
آخر میں یہ بھی امید ہے کہ سیاسی جماعتیں آپس کے جھگڑے عدالت تک پہنچانے کی بجائے پارلیمنٹ میں مل بیٹھ کر بحث و تمحیص اور افہام و تفہیم سے مسائل کا حل نکالیں تاکہ عوام کے وقت، پیسے اور وسائل عدالتی کارروائی پر ضائع نہ ہوں۔