بڑھتی آبادی، روزگار اور مہنگائی کا چیلنج

تازہ ترین

تازہ ترین

 وزیراعظم کاکہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا بہت بڑا چیلنج ہے، نوجوان ڈگریاں ہونے کے باجود بے روز گار ہیں، حکومت مہنگائی کے اثرات روکنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

ہری پورمیں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار ہے،آئی ٹی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اس سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

پاکستان میں اس وقت مہنگائی اور بیروزگاری حکومت کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے، جنگ اخبار میں  برطانوی جریدے اکانومسٹ کے حوالے سے شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق دنیا میں مہنگائی کی بلند شرح کے لحاظ سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ مہنگائی کی سب سے زیادہ شرح ارجنٹینا میں 51 اعشاریہ 2 فیصد اور ترکی میں 21اعشاریہ 3 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 11 اعشاریہ 5 فیصد ہے۔

دوسری جانب ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 کے دوران تسلسل سے مہنگائی کی شدت بڑھتی رہی، دسمبر 2021 میں مہنگائی کی شرح میں 12اعشاریہ3 فیصد کا اضافہ ہوا اور نومبر 2021 میں مہنگائی 11اعشاریہ55 فیصد رہی۔ دسمبر 2020 میں افراط زر کی شرح 8 فیصد رہی تھی اور سال 2020 کے چھ ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح 8اعشاریہ 63 فیصد رہی۔

جہاں تک ملک میں آبادی بڑھنے کا تعلق ہے تو آبادی میں سالانہ 2اعشاریہ 4 فیصد اضافے سے موجودہ صورت حال خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران محتاط اندازوں کے مطابق ابتدائی دو برس میں جی ڈی پی کم ہوکر 2019 میں 1اعشاریہ 9 فیصد اور مالی سال 2020 میں منفی صفراعشاریہ 38 فیصد رہا اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ 2020ء میں ٹیکس ادا کرنے کے قابل آبادی 25گنا زیادہ ہونے کے باوجود صرف 20 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں جس سے حاصل آمدنی جی ڈی پی کا صرف 10 فیصد ہے۔

تجزیہ کاروں اور سنجیدہ حلقوں کے مطابق مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے لوگ حکومت سے مطمئن نہیں ہیں تاہم حکومت حقائق تسلیم کرنے کے بجائے سارا ملبہ عالمی قیمتوں پر ڈال رہی ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جہاں گزشتہ تین ماہ سے متعلق اکانومسٹ کی رپورٹ انتہائی پریشان کن ہے وہیں یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں فارم سے مارکیٹ میں ٹیرف مڈل مین طے کرتے ہیں ، جب کہ اجناس کی قیمتیں ہر شہر میں چھ سے آٹھ گھنٹوں میں تبدیل ہوتی ہیں۔ جبکہ تمام پاکستانی حکومتیں اسے طلب و رسد کا فرق قرار دیتے ہوئے ر عوام کو مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان خود اس بات سے متفق ہیں کہ بڑھتی آباد، روزگار اور مہنگائی حکومت کیلئے بڑے چیلنج ہیں تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کے باوجود مہنگائی اور بیروزگاری کے عفریت قابو کرنے میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ عوام بڑھتی مہنگائی سے شدید پریشان ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں مہنگائی کی آڑ میں سیاسی عدم استحکام کی راہ ہموار کررہی ہیں۔

اس لئے حکومت ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے روزگار کے موقع فراہم کرے اور بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ملک کو درپیش سنگین مسائل کا سدباب کیا جاسکے۔

Related Posts