آیئے اب جائزہ لیتے ہیں مغربی اتحاد کا کہ کیا وہ ایران سے جنگ لڑنے کی پوزیشن میں ہے؟ کیا یہ ایران کے خلاف بھی ویسا ہی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جس طرح عراق کے خلاف ہوا تھا؟
اس پہلو پر ہم آپ سے خوش فہمیوں میں مبتلا کرنے والی ہوائی قسم کی جذباتی بات نہیں کریں گے کہ فتح انشاءاللہ حق ہوگی، فرشتے آسمان سے قطار اندر قطار اتریں گے، اور یہ کہ کفر کا غرور خاک میں مل جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہمارا مزاج نہیں۔ ہمارا مزاج وہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سمجھایا ہے کہ دشمن کے خلاف اپنے وسائل کی بھرپور تیاری رکھو اور اس کے بعد اللہ پر توکل کرکے اس کا سامنا کرو۔ سو چلئے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ وسائل یعنی زمینی حقائق کس کے حق میں ہیں؟ اور کس کے خلاف؟
سب سے پہلے یہ نکتہ سمجھ لیجئے کہ مغرب ایک بڑی فوجی طاقت نائن الیون کے آس پاس تک رہا تھا۔ اس کی ساری کی ساری عسکری طاقت اس نے سوویت یونین کے خلاف بنا رکھی تھی۔ جب سوویت یونین بکھر گیا تو فرانسس فوکویاما جیسے ارسطوؤں نے اینڈ آف ہسٹری جیسے پیس لکھ کر مغرب کو اس خوش فہمی میں مبتلا کردیا کہ اب رہتی دنیا تک بس ایک ہی نظام چلے گا اور وہ ہے لبرلزم۔ کیونکہ مقابلے میں اب کوئی دوسرا نظام موجود ہے اور نہ ہی کوئی بڑی طاقت۔
اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہی مغرب نے یہ سوچ کر اپنی عسکری طاقت میں بڑی کمی کردی کہ جب مقابلے پر کوئی بڑی طاقت ہی موجود نہیں تو ہم دفاع پر اضافی کھربوں ڈالر کیوں خرچ کریں؟۔ یہ وہ دن تھے جب چین کا ابھی دور دور تک کوئی بڑی طاقت بننے کا امکان ہی نظر نہ آتا تھا جبکہ روس میں شہری قطاروں میں لگ کر حکومت سے ڈبل روٹی حاصل کرتے اور اسے پانی کے ساتھ کھا کر اپنی بھوک مٹاتے۔
اپنی فوجی طاقت میں بڑی کمی کرکے مغرب نے دنیا کو ڈرائے رکھنے کے لئے تین چیزوں پر انحصار شروع کردیا۔ اور انہی تین چیزوں کا مستقل بنیاد پر پروپیگنڈہ بھی شروع کردیا۔ اگر آپ غور کریں گے تو صاف نظر آئے گا کہ ان تینوں چیزوں کے حوالے سے نیشنل جیوگرافک وغیرہ پر متواتر ڈاکومنٹریز آپ کے سامنے آتی رہی ہیں۔ ان تین چیزوں میں سر فہرست امریکہ کے نیول بیٹل گروپ ہیں۔ ہر نیول بیٹل گروپ میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر چند فریگیٹس، کچھ ڈسٹرایئر، اور ایک دو آبدوزیں شامل ہوتی ہیں۔ جب آپ ٹی وی سکرین پر ان کے مناظر دیکھتے ہیں تو بہت مرعوب کردینے والے ہوتے ہیں۔
دنیا کو ڈرائے رکھنے کے لئے جس دوسری چیز کا انہوں نے بھرپور استعمال کیا ،وہ ہے ایئرفورس۔ چنانچہ اگر آپ غور کریں گے تو نوٹ کرنے میں دیر نہ لگے گی کہ آپ نے گزشتہ بیس برسوں کے دوران امریکی طیاروں کی بھی لاتعداد ڈاکومنٹریز دیکھ رکھی ہیں۔ وہ متواتر یہ یہ دکھاتے رہے ہیں کہ آج ہم نے فلاں طیارہ ایجاد کرلیا ہے اور اس کی یہ یہ ہلاکت خیزیاں ہوں گی۔ اور کل ہم فلاں طیارہ ایجاد کریں گے جو فلاں فلاں خوبیوں کا مالک ہوگا۔ تیسری چیز جس پر انحصار کیا گیا اور بھرپور پروپیگنڈہ کیا گیا وہ ہیں میزائل۔ چنانچہ ٹاماہاک کروز میزائل داغنے کے لئے تو جیسے امریکہ بہانے تلاش کرتا رہا۔ یہ تین حوالے دینے کے بعد اب ہم آپ سے ایک سادہ سا سوال پوچھتے ہیں۔ کیا آپ نے نیشنل جیوگرافک پر امریکی آرمی سے متعلق بھی کوئی ڈاکومنٹری دیکھی؟ جنگ تو لڑتی ہی آرمی ہے۔ نیوی، ائیرفورس اور میزائل تو بس “معاون” کا رول پلے کرتے ہیں۔
آیئے یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت مغربی اتحاد میں سے بعض ممالک کے کل ملٹری نفوس کتنے ہیں۔ امریکی ملٹری 13 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ عدد بڑا لگا ناں؟ اب ذرا یہ بھی سن لیجئے کہ ان کی ملٹری برانچز کتنی ہیں۔ یہ چھ ملٹری برانچز رکھنے والا ملک ہے۔ جن میں آرمی، میرین کور، نیوی، ایئرفورس، سپیس فورس، اور کوسٹ گارڈ شامل ہیں۔ یعنی 13 لاکھ کا یہ عدد چھ برانچز میں منقسم ہے۔ جن میں سے آرمی کا عدد ہے ساڑھے چار لاکھ۔ اب بھی یہ عدد بہت متاثر کن لگ رہا ہے؟ چلئے اب یوں کیجئے کہ ان ساڑھے چار لاکھ کو ان گیارہ کمانڈز پر تقسیم کیجئے جو امریکہ نے اپنے رعب و دبدبے کے لئے بنا رکھی ہیں، اور جن میں سے بعض امریکہ کی حدود سے باہر مخصوص جغرافیوں تک محدود ہیں۔ یعنی افریقہ کمانڈ، سینٹرل کمانڈ، یورپین کمانڈ، انڈو پیسفک کمانڈ، ناردرن کمانڈ، سدرن کمانڈ، سپیس کمانڈ، سپیشل آپریشن کمانڈ، سائبر کمانڈ، سٹریٹیجک کمانڈ اور ٹرانسپورٹیشن کمانڈ۔ اب آپ آرمی والے ساڑھے چار لاکھ کے عدد میں میرین کور کے ایک لاکھ اسی ہزار نفوس بھی شامل کرلیں تو امریکی ملٹری کا سٹرکچر پیپر پر تو بہت متاثر کن لگتا ہے مگر دنیا کی کسی بھی فوج کے کرنل رینک کے افسر سے آپ یہ تسلیم نہیں کروا سکتے کہ یہ کوئی ملک فتح کرسکنے والی فورس ہے۔
یہ فقط ایک ملٹری شوپیس ہے جو پچھلے بیس برسوں کے دوران عراق اور افغانستان جیسے پسماندہ ممالک میں اپنی ایئرفورس اور ڈرون حملوں کے پروپیگنڈے کرتی رہی ہے۔ اور وہاں سے بھی شکست کھا کر نکلی ہے۔ اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوج کو ہر سال ریٹائر ہونے والوں کی جگہ لینے کے لئے جو نئی بھرتیاں کرنی پڑتی ہے ان بھرتیوں کے لئے درکار عدد میں اسے ساٹھ فیصد کمی کا سامنا ہے۔جانتے ہیں اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ شرائط اور معیار پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا ورنہ یہ فوج وہ عدد ہی برقرار نہ رکھ پائے گی جو اس کی لازمی ضرورت ہے۔
اب ایک معمولی سی نظر اس کے اتحادیوں پر ڈال لیجئے۔ ان کی حالت تو اتنی پتلی ہے کہ بس عدد دیکھ کر ہی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ برطانیہ کی کل ملٹری فورس ایک لاکھ 38 ہزار پر مشتمل ہے۔ جس میں برٹش آرمی کی تعداد صرف 75 ہزار ہے۔فرانس کے کل ملٹری نفوس دو لاکھ ستر ہزار ہیں، جس میں فرنچ آرمی کی تعداد ایک لاکھ 18 ہزار ہے۔ جرمنی کی کل ملٹری فورس ایک لاکھ 80 ہزار ہے، جس میں آرمی کا عدد صرف 63 ہزار ہے۔اور اٹلی کی کل ملٹری فورس ایک لاکھ 65 ہزار ہے جبکہ اس میں اٹالین آرمی کا عدد 97 ہزار ہے۔یہ ہے یورپ کے چار بڑے ممالک کی فوجی طاقت ورنہ چھوٹے ممالک میں تو ایسے بھی ہیں جن کی کل ملٹری فورس ہی 18 ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور روس کو سب سے زیادہ دھمکیاں بھی یہی 18 ہزار والے بونے دیتے ہیں۔
اب آپ ذرا جگر تھام کر یہ سنیئے کہ کیا آپ جانتے ہیں اس وقت یورپ کی سب سے بڑی ملٹری پاور کون سا ملک ہے ؟عسکری لحاظ سے ترکی یورپ کا سب سے طاقتور ملک ہے۔ جس کی ملٹری کا مجموعی عدد پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور اس میں سے ترکش آرمی کا عدد چار لاکھ ہے۔
اب یہاں دو خیال پیدا ہوسکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ مغربی ممالک کے انفرادی اعداد اگرچہ بہت چھوٹے نظر آتے ہیں مگر یہ سب مل کر مشتمل تو نیٹو پر ہیں۔ سو یہ چھوٹے اعداد اگر نیٹو کے لیول پر جمع کر لئے جائیں تو ایک بہت بڑی ملٹری پاور وجود میں آجاتی ہے۔ دوسرا خیال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ ترکی اگرچہ یورپ کی سب سے بڑی ملٹری پاور ہے مگر ہے تو یہ نیٹو کا ہی حصہ تو گویا مغرب کی ہی فورس ہوئی۔ آیئے ان دونوں خیالات کا جائزہ لیتے ہیں۔
نیٹو کے حوالے سے یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہ اتحاد اپنے چارٹر کے لحاظ سے ایک دفاعی اتحاد ہے۔ جس کا قیام اس اصول پر کھڑا ہے کہ یہ اتحاد کسی جنگ میں صرف اس صورت میں کودے گا جب اس کے کسی ممبر ملک پر حملہ ہوجائے۔ اس کے سوا نیٹو کسی صورت حرکت میں نہیں آسکتا۔ افغانستان میں یہ کودا تھا تو اس کے لئے بھی کھینچ تان کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی تھی کہ چونکہ امریکہ پر نائن الیون حملہ ہوا ہے لہٰذا نیٹو کا حرکت میں آنا بنتا ہے۔ مگر خود مغربی دانشوروں کا یہ موقف ہے کہ نیٹو کی افغانستان میں مداخلت نیٹو چارٹر کی خلاف ورزی تھی کیونکہ افغانستان کی حکومت کا نائن الیون حملوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔
اسی طرح نیٹو نے سوویت یونین خاتمے کے تین سال بعد جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول کے تحت سربیا پر بمباری کی تھی مگر اس کے لئے نیٹو کو آج بھی عالمی فورمز پر شرمندگی کا سامنا ہے۔ یہی معاملہ لیبیا کے خلاف بھی پیش آیا۔ وہاں بھی نیٹو نے بمباری کی۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو سربیا ولے معاملے میں نیٹو نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا تھا کہ دنیا میں اسے روکنے والی کوئی طاقت ہی وجود نہیں رکھتی تھی۔ جبکہ افغانستان یا لیبیا میں کسی اور ملک کا کوئی بڑا سٹیک نہ تھا۔ چنانچہ نیٹو نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ لیکن جب بات مشرقِ وسطٰی کی آئے گی تو یہاں سٹیکس بہت ہائی ہیں۔ ایران، روس اور چین دونوں کے لئے سٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔ نیٹو یہاں قدم بھی نہیں رکھ سکتا۔
جہاں تک ترکی کے نیٹو ممبر ہونے کا تعلق ہے تو ترکی نیٹو کا صرف اس جنگ میں پابند ہے جس کی شکل یوں بنی ہو کہ کسی نیٹو ممبر ملک پر حملہ ہوگیا ہو۔ اس کے علاوہ نیٹو کا ہر ممبر آزاد ہوتا ہے۔ چنانچہ نیٹو چارٹر کے تحت ہی یہ قانون بھی ہے کہ اگر کوئی نیٹو ممبر کسی ملک پر حملہ کردے یا کسی ملک کی عسکری مدد کے لئے پہنچ جائے تو یہ اس ملک کا اپنا معاملہ ہوگا۔ نیٹو اس کا ذمہ دار ہوگا اور نہ ہی اس میں حصہ لے گا۔ سو اگر مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ اور طیب اردگان اس میں ترک فوج کو اتارنا چاہے تو اس حوالے سے کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔ اگرچہ طیب اردگان انتہائی ناقابل اعتبار لیڈر ہیں۔ مگر اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اس جنگ میں کود جائیں۔ اس کے لئے اردگان نے ماحول پہلے ہی سازگار کر رکھا ہے۔ تاکہ اگر کودنا ہی پڑے تو ترک عوام اس کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوں۔ ترکی ایک بڑی ڈرون پاور ہے۔ جس کا خوف پہلے ہی اسرائیل پر سوار ہے۔ اور زمینی لحاظ سے بھی یہ اسرائیل سے زیادہ دور نہیں۔ یہ براستہ شام اسرائیل سرحد پر پہنچ سکتا ہے۔
زیر نظر کالم کی اس چوتھی قسط میں ہم نے آپ کو بیلنس آف پاور کے نقطہ نظر سے مغربی اتحاد کی زمینی صورتحال سے آگاہ کیا۔ یہ بات ابھی باقی ہے کہ اس اتحاد کے کچھ ممالک اگر مشرقِ وسطیٰ کی ممکنہ جنگ میں کود بھی گئے، اور صرف اسرائیل کے دفاع تک محدود نہ رہے بلکہ ایران پر حملے میں بھی شریک ہوگئے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ اگلی قسط میں ہم اسی سوال کا جائزہ لیں گے۔ (جاری ہے)
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں