پچھلے سال اگست میں میں فیس بک پر لکھی اپنی ایک تحریر میں عرض کیا تھا کہ بظاہر یوں لگتا ہے جیسے دونوں ایمپائر اور ان کی فیوریٹ ٹیم اب بھی مل کر اپوزیشن کےخلاف کھیل رہے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے یہ کھیل تبدیل ہوچکا ہے۔
تب تک کسی بھی جانب سے ایسا کوئی اشارہ آیا تھا کہ ایکسٹینشن والے معاملے میں ایمپائرز کی ٹیم ایمپائر کا ہی بوریا بستر گول کرنے کے چکر میں تھی اور نہ ہی کسی تجزیہ کار نے ایسی کوئی بات کہی تھی۔ لیکن میں نے اسے نہ صرف لکھا بلکہ اس کے حق میں کچھ اور اشارے بھی پیش کئے۔
یہ ان حالات میں ایک ناقابل یقین بات لگتی تھی سو بیشتر لوگوں نے مسترد کردیا۔ اب ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ میچ ایکسٹینشن والے موڑ پر ہی تبدیل ہوگیا تھا۔ اور اب یہ یوں کھیلا جا رہا ہے کہ بڑے ایمپائر کو دونوں ہی ٹیموں کی جیت میں اپنا نقصان دکھائی دیتا ہے۔
پھر اس سال جون یا جولائی میں لکھا کہ قبلہ بڑے ایمپائر جی کپتان سے کہہ رہے ہیں کہ چھوٹے ایمپائر کو بدلنا ہے۔ مگر کپتان مان نہیں رہا۔ سب کی توجہ مریم نواز کی دھواں دھار تقاریر کی جانب تھی سو یہ بات بھی بیشتر نے تسلیم نہ کی۔
انہیں یہی لگتا رہا کہ ایمپائر اور کپتان ایک ہی پیج پر ہیں۔ اگر یہ ایک پیج پر نہ ہوتے تو مریم آگ کیوں اگل رہی ہوتیں ؟ مگر جب ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن والا معاملہ پیش آگیا تو اب سب چونک کر وہی بات کر رہے ہیں جو یہ فقیر ایک سال سے کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ذرا غور کیجئے یہ کتنا طویل وقت ہے جو ضائع کردیا گیا۔ اس پورے عرصے کے دوران بڑے ایمپائر مستقل کپتان کے نشانے پر رہے اور اپوزیشن یہی سمجھتی رہی کہ یہ سب ایک پیج پر ہیں۔ ان کی جانب سے سرکاری ٹیم میں موجود اس اختلافی صورتحال کا فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔
جب پچھلے سال موسم سرما میں پی ڈی ایم پنڈی کا رخ کرنے کی بات کر رہی تھی تب ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پنڈی آنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اس واضح اشارے کو بھی نہ سمجھا جاسکا۔ بڑے ایمپائر تو کپتان کے نشانے پر تھے تو پھر پنڈی جانے کی واقعی کوئی وجہ موجود نہ تھی۔
رخ اسلام آباد کا ہونا چاہئے تھا جہاں کپتان اور چھوٹا ایمپائر مل کر “کھیل” رچا رہے تھے۔ لیکن پنڈی جانے کی بات کرنے والی پی ڈی ایم پنڈی تو کیا اسلام آباد بھی نہ گئی۔ نون لیگ نے اپنے زیر پرورش تجزیہ کاروں کے ذریعے یہ بات تو عام کرادی کہ پی پی پی کے الگ ہونے کے بعد اب لانگ مارچ نہیں ہوسکتا۔ مگر اس بات سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے کہ لانگ مارچ عوامی طاقت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ عوامی طاقت تو پی پی پی کے پاس ہے ہی نہیں۔
سو اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ لانگ مارچ کی عوامی طاقت تو نون لیگ کے پنجاب اور مولانا فضل الرحمان کے خیبر پختونخوا سے آنی تھی۔ یہ عوامی طاقت استعمال نہ کرنا ہی نون لیگ کے دوغلے پن کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔
شاید یہی وہ موقع تھا جب مولانا فضل الرحمان اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں ان دونوں بڑی پارٹیوں کے آسرے پر رہنے کے بجائے اپنے معاملات خود اپنے ہاتھ میں لے لینے چاہئیں۔ انہوں نے خاموشی سے اپنے معاملات انہی کے ساتھ طے کر لئے جن کے ساتھ بالآخر نون لیگ اور پی پی پی نے بھی طے کرنے ہی ہوتے ہیں یعنی ایمپائر۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل سب سے پراعتماد لہجہ مولانا کا ہی ہے۔
وہ دو صوبوں کے حوالے سے اپنے معاملات طے کرچکے جبکہ نون لیگ اب بات چیت کر رہی ہے۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر اب حالیہ صورتحال کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ بات اچھی طرح ذہن میں بٹھا لی جائے کہ نوٹیفکیشن والا چھکا مارا ہی دوسرے پاور پلے کے پہلے اوور کی پہلی گیند پر گیا ہے۔ سو میچ اب پاور پلے کے مرحلے میں ہے۔ اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ چھکے پہ چھکے بھی لگ سکتے ہیں اور چھکوں کی برسات کی کوشش میں وکٹوں پر وکٹیں بھی گر سکتی ہیں۔
اسی لئے سب ہی بہت محتاط ہیں۔ چھوٹے ایمپائر کی میچ میں موجودگی 20 نومبر تک یقینی بنانے والے کپتان پچھلے ڈیڑھ ہفتے سے اس کوشش میں تھے کہ ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلانے کے حوالے سے قانون سازی کرکے اپنا اگلا الیکشن بھی کھرا کرسکیں۔
مگر پہلے مرحلے میں انہیں نظر آگیا کہ ان کی ٹیم کے کچھ کھلاڑی دوسری طرف مل چکے ہیں۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس کے ذریعے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ دال یوں بھی نہیں گل سکتی۔
چنانچہ اجلاس مؤخر کرکے پیغام بھیجا گیا کہ اگر انہیں نوبال پر فری ہٹ کا چانس نہ دیا گیا تو وہ ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے بڑے ایمپائر کی چھٹی کردیں گے۔ یوں انہیں یہ سوچ کر فری ہٹ دیدی گئی کہ میچ جاری رہنا چاہئے۔
مگر ساتھ ہی مریم نواز نے چھوٹے ایمپائر کو بھی ایک بار پھر نشانہ بنا کر نہ صرف یہ کہ بڑے ایمپائر کو خیرسگالی کا پیغام بھیج دیا ہے بلکہ چھوٹے ایمپائر کو یہ بھی باور کرا دیا ہے کہ حالیہ صورتحال میں سب سے پتلی حالت اسی کی ہے۔
اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ بات صرف اتنی سی نہیں کہ بڑا ایمپائر کپتان کے ایک نوٹیفکیشن کے رحم و کرم پر ہے بلکہ پوری بات یہ ہے کہ چھوٹا ایمپائر بھی بڑے ایمپائر کے ایک دستخط کی مار ہے۔
کپتان جس نوٹیفکیشن کی دھمکی دیتے ہیں اس پر عمل کرنے کے لئے تو پھر بھی دل گردہ چاہئے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں پوری “آئی سی سی” ان پر چڑھائی کرسکتی ہے۔ لیکن بڑے ایمپائر والے دستخط میں تو کوئی رکاوٹ بھی نہیں۔
سو گزشتہ روز کپتان نے نو بال پر فری ہٹ مار کر قانون سازی بیشک کرالی ہے مگر نہیں بھولنا چاہئے کہ میچ میں ایک عدد “میچ ریفری” بھی ہوا کرتا ہے۔ وہی میچ ریفری جس نے پچھلے دنوں کپتان کو طلب بھی کرلیا تھا۔ یہ قانون سازی کسی بھی موقع پر میچ ریفری کے پاس جاسکتی ہے اور یقیناً جائے گی۔
تب کپتان کے ہاتھ میں کچھ نہ رہے گا۔ انتظار بس دوسرے پاور پلے کے ختم ہونے کا ہورہا ہے جو 20 نومبر کو ختم ہوجائے گا۔ بڑے ایمپائر کی کوشش ہے کہ میچ اس سے قبل ختم نہ ہو۔ ایک بار یہ پاور پلے گزر گیا تب کپتان کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس نے کھایا پیا کچھ نہیں، بس بارہ آنے کا گلاس ہی توڑا ہے !۔