بلوچستان میں مون سون سے قبل طوفانی بارش، ریلے سیلابی بند بہا کر لے گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

بلوچستان میں شدید بارشوں سے تباہی کا سلسلہ رک نہ سکا، ہلاک افراد کی تعداد 104 ہوگئی
بلوچستان میں شدید بارشوں سے تباہی کا سلسلہ رک نہ سکا، ہلاک افراد کی تعداد 104 ہوگئی

کوئٹہ: بلوچستان میں مون سون سے قبل طوفانی بارش نے تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے بند بہا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ شہریوں کے متعدد گھر بھی ریلوں کی نذر ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے مشرقی اضلاع بشمول کوہلو، ہرنائی، بارکھان، دکی، موسیٰ خیل اور سرحدی پہاڑی علاقے پری مون سون بارشوں کی زد میں آگئے جہاں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی۔

یہ بھی پڑھیں:

 سیلابی ریلے کے باعث ٹوٹنے والا پل 6 روز بعد آمدورفت کیلئے تیار

سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے باعث ہرنائی میں 2 مقامات پر رابطہ پل اور دیہی علاقوں میں ریلوں میں سیلابی بند بھی بہہ گئے۔ اوتھل، حب، بیلہ اور وندر کے علاقوں میں بھی بارش ہوئی ہے۔

بارش کے بعد بلوچستان کے گرمی سے تپتے علاقوں میں موسم کی شدت کم ہو گئی ہے۔تاحال سیلابی ریلوں کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکا۔ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب مری، اسلام آباد، حافظ آباد، دادو، کاچھو اور تھرپارکر میں بھی بارش ہوئی۔ نانگا پربت اور بابو سر ٹاپ جیسے شمالی علاقہ جات میں وقتاً فوقتاً برف باری ہوئی۔ 

خیال رہے کہ اس سے قبل ہنزہ میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث پیدا ہونے والے سیلابی ریلے سے ٹوٹنے والا حسن آباد کا پُل 6 روز کے بعد آمدورفت  کیلئے دوبارہ تعمیر کر لیا گیا۔

گزشتہ ماہ حسن آباد پل کی تعمیر پر ڈپٹی کمشنر ہنزہ کا کہنا تھا کہ آمد و رفت کے لیے پل مقامی افراد، علی آباد شہر جانےکے لیےاستعمال کریں گے جبکہ سیاح اب بھی متبادل روڈ شاہراہ نگر استعمال کریں گے۔

Related Posts