ملکی معیشت اور پیشگوئیاں

تازہ ترین

تازہ ترین

ملکی معیشت اس وقت تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑی ہے جہاں ڈیفالٹ اور دیوالیہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا حال خدانخواستہ سری لنکا جیسا ہونے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

حکومت کی تسلیوں اور مثبت بیانات کے بعد کچھ نہ کچھ حد تک پاکستان کو دیوالیہ ہونے کا خدشہ جیسی خبریں میڈیا کی زینت بننے کا سلسلہ تو کم ہوا تاہم اپوزیشن کے بیانات بھی عوام کی توجہ کھینچنے میں خاصے کامیاب نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر اپوزیشن رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اپنے 8جولائی کے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے جال میں پھنس گئی ہے۔ 400ٹیکسٹائل ملز بند ہوگئیں۔ ملک ڈیفالٹ ہونے کی طرف جارہا ہے۔ بجلی مزید 9روپے یونٹ مہنگی ہوگی۔

شیخ رشید نے کہا کہ سولر ایجنسی کمیشن کے پیچھے اصل چہرہ شہباز شریف خاندان کا ہے۔ دنیا کا مہنگا ترین ملک پاکستان ہے۔ بھارت سے تجارت، اسرائیل سے دوستی، ڈرون بیسز کی اجازت ان کا ایجنڈا ہے۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ 31 فیصد مہنگائی، 15فیصد شرحِ سود بڑھ گئی ہے۔ وزارتوں کا جمعہ بازار لگا ہے۔ منی لانڈرنگ کرنے والے حکمران بن گئے۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔

ان کا موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ گورکن تماشا دیکھ رہے ہیں۔ 20نشستوں پر انتخاب فیصلہ کن ہوگا۔ آئندہ 45دن جمہوریت اور حکومت کا فیصلہ کردیں گے۔ 

اگر آپ سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی پیشگوئیوں کا جائزہ لیں تو آج سے 3 سال قبل انہوں نے فرمایا تھا کہ پاک بھارت جنگ اگلے 6 ماہ میں چھڑ جائے گی، لیکن چشمِ فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا جب ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔

اگست 2019میں تاریخی بیان جاری کرتے ہوئے سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے فرمایا کہ اگلے 6 مہینوں میں جنگ ہوتی دیکھ رہا ہوں۔ 3 سے 6 ماہ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا مسئلہ فائنل ہونے والا ہے۔

گویا سربراہ عوامی لیگ شیخ رشید احمد کے بیان کے مطابق پاک بھارت جنگ کو فروری 2020 میں شروع ہوجانا چاہئے تھا اور کشمیر کو بھارت کے چنگل سے تو 2019 میں ہی آزاد ہوجانا چاہئے تھا لیکن یہ حقیقت میں نہیں ہوا۔

 کسی بھی ملک کا نظامِ حکومت چلانا انتہائی ذمہ داری کا متقاضی ہے جس میں سارا کردار صرف حکمرانوں کا نہیں بلکہ اپوزیشن کا کردار بھی خاصا اہم ہوتا ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک میں تعمیری اور مثبت تنقید کی بجائے پیشگوئیوں اور حکومت گرانے پر توجہ مرکوز کرنے کا رجحان کافی بڑھ گیا ہے۔

Related Posts