مہنگی ایل این جی اور قلت

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے توقع ہے کہ پاکستان کو آنے والے مہینوں میں گیس کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ ہم درآمد شدہ ایل این جی پر زیادہ سے زیادہ انحصار کر رہے ہیں جو کہ انتہائی مہنگے نرخوں پر خریدی جا رہی ہے اور قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہی ہے۔

پاکستان اکتوبر کے لیے ایل این جی کے لیے دو کارگو درآمد کرنے کے لیے تیار ہے جو کہ فرنس آئل سے 65 فیصد زیادہ مہنگا ہے۔

ایل این جی کی اوسط قیمت 20 ڈالر فی ملین بی ٹی یو تھی ، بہت سے ایشیائی ممالک اس سے بھی زیادہ قیمتوں پر خریداری کر رہے ہیں جس سے ایل این جی بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

گیس کی کمی کی کئی وجوہات ہیں۔ عام طور پر سردیوں میں گیس کی مانگ بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں۔رواں موسم گرما میں ایل این جی کی قیمت عالمی سطح پر بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو زیادہ نرخوں پر خریدنی پڑی۔

بہت سے ممالک موسم گرما میں اضافی گیس خریدتے ہیں اور موسم سرما کے لیے اسے ذخیرہ کرتے ہیں تاکہ سپلائی اور سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے لیکن ہم نے پہلے کبھی منصوبہ بندی نہیں کی۔

پاکستان میں گیس کے ذخیروں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ہم نے فلوٹنگ اسٹوریج اینڈ ری گیسی فکیشن یونٹ ماڈل اپنایا ہے جسے زمین پر بنے گیس ٹرمینلز کے بجائے ایل این جی ٹرانسفر کے لیے جہاز کہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ مہنگا اور مشکل اسٹوریج گیس مارکیٹ کے آپریشن کے لیے ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس حوالے سے کوئی وسائل وقف نہیں کیے۔

پاکستان گیس سے چلنے والے پاور ہاؤسز چلانے کے لیے ایل این جی خریدتا ہے۔ ہم نے 2015 میں پہلا ایل این جی ٹرمینل بننے کے بعد اس طرف رخ کیا تھا تاہم چیزیں بدل گئی ہیں اور اب ایل این جی کا فرنس آئل سے بھی زیادہ نرخوں پر کاروبار کیا جا رہا ہے۔

انڈسٹری کے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ایشیائی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کو تیل کے بل اور مہنگائی کو کم کرنا چاہیے۔

پاکستان نے اگست میں 6اعشاریہ 3 بلین ڈالر کی ریکارڈ درآمدی ادائیگی کی جس سے تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر سے زیادہ کی ریکارڈ بلند ہو گیا اور مقامی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 13 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔ گیس کے بلند نرخوں کے باوجود شہری علاقوں سمیت ملک کے کئی حصوں کو گیس کی دائمی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حکام کو گیس کے بحران کے طویل مدتی اثرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے اوریہ ضروری ہے کہ گیس کے ذخائر پر وسائل خرچ کیے جائیں تاکہ مطلوبہ ضرورت کوپورا کیا جا سکے۔

Related Posts