کراچی کے نجی اسکولوں کی جانب سے محکمہ تعلیم سے اجازت کے بغیر ہی فیسوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا ہے، ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ نجی اسکولوں نے فیسوں میں 30سے 40فیصد اضافہ کیا ہے، جس کے باعث والدین پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں، اگر واقعی اسکولوں کی فیسوں میں یہ اضافہ کردیا جاتا ہے تو وہ والدین جو موجودہ حالات کے پیش نظر پہلے اپنے بچوں کے اسکولوں کی فیسوں کو ادا نہیں کرپارہے، اپنے بچوں کو اسکولوں سے اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔
کراچی میں پرائیویٹ اسکولز کی من مانیاں کوئی نئی بات نہیں، اس سے قبل بھی اسکولوں کی فیسوں میں بغیر اجازت کے بڑا اضافہ کیا جاچکا ہے، جبکہ اس حوالے سے والدین کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے، مگر پرائیویٹ اسکول مافیا کے آگے سب بے بس ہیں، یہ لوگ اپنی من مانی کرانا جانتے ہیں، نجی اسکولوں نے ناصرف اسکول کی فیس میں اضافہ کیا بلکہ پابندی کے باوجود طلبہ کوکتابیں اور کاپیاں فروخت کی جارہی ہیں، جس کے لئے بھاری رقم وصول کی جارہی ہے۔
محکمہ تعلیم سندھ کا اضافی فیسوں کے معاملے پر کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ پرائیوٹ اسکولز کے آفیسر نے فیسوں میں اضافے کی اجازت دی ہے تو اس کی انکوائری کریں گے، اسکولوں کو فیس میں سالانہ صرف 10 فیصد اضافے کی اجازت ہے۔جبکہ نجی اسکولوں نے دعویٰ کیا ہے کہ فیسوں میں اضافے کی منظوری محکمہ تعلیم سے لی گئی ہے،محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق نجی اسکولوں کی فیس میں غیر قانونی اضافے سے وزیر تعلیم کو لاعلم رکھا گیا ہے۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا اس سے قبل بھی نجی اسکولوں کی جانب سے اس طرح کا رویہ اختیار کیا جاچکا ہے، جبکہ اس قسم کے معاملات کو عدالت کے سپرد بھی کیا جاچکا ہے، مگر پرائیویٹ اسکول مافیا کو جب فیسوں میں اضافہ کرنا ہوتا ہے وہ بلا خوف و خطر کردیتے ہیں، محکمہ تعلیم اور سندھ حکومت کو چاہئے کہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور فیسوں میں غیر قانونی اضافہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں