اسلام آباد: حکومت مالیاتی خسارے میں کمی لانے کیلئے پر عزم ہے، جس کے تحت متبادل ذرائع پر غور کیلئے کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق آج ہونے والے کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے اجلاس میں پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کے مزید حصص فروخت کرنے پر غور کیا جائے گا۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کو نجکاری کیلئے موزوں بنانے کیلئے نجی شعبے کے حوالے کرنے پر گفگتگو ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے سرکاری کمپنیوں کی نجکاری سے قبل انہیں مکمل بااختیار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام سرکاری کمپنیوں کو وزارتوں کے کنٹرول سے نکالا جائے گا۔
حکومت نے کمپنیوں کو نجی شعبے کی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کو تیز کرنے کا فیصلہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں غیر ضروری سست روی پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے جس سے قرضے کی اقساط متاثر ہو سکتی ہیں۔
میاں زاہد حسین نے رواں برس 6 جنوری کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران حکومتوں نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے وقت نجکاری کی یقین دہانیاں کروائیں مگر سیاسی وجوہات کے باعث کوئی خاص عملدرآمد نہیں کیا گیا جو افسوسناک ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان پر نجکاری کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے،میاں زاہد حسین
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








