حکومت نے بچوں کی مزدوری پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پارلیمنٹ میں وسیع پیمانے پر عام رواج کو کالعدم قرار دینے کے لئے ایک بل پیش کیا جائے گا ، بحث ہوگی اور منظوری کے بعد اس کو قانون کا حصہ بنایا جائیگا۔
زینب انصاری کے بہیمانہ قتل کے مجرم کو تیزی سے پھانسی دے دی گئی اور برسوں بعد زینب الرٹ بل منظور کیا گیالیکن ہم ابھی بھی قانون کے بارے میں مطمئن نہیں ہیں اور انسانی حقوق کی وزیر نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اب بھی بچے محفوظ نہیں ہیں۔ گھریلو ملازمین کی حیثیت سے نابالغ بچوں کی خدمات حاصل کرنا ابھی بھی جاری ہے۔
زہرہ شاہ ایک نابالغ ملازمہ کوتاحال انصاف نہیں مل سکا جس کو اس کے مالکان نے طوطے اڑانے پربے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ متعدد دوسرے بچے گھریلو ملازم کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔
بچوں کے ساتھ بھی جنسی استحصال میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ہم ابھی بھی معاشرے کو مکروہ عمل سے پاک کرنے سے قاصر ہیں۔
اس سال کے شروع میں عادی مجرم سہیل ایاز کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ملزم سرکاری محکمہ میں کام کررہا تھا کہ اس کی مذموم کارروائیوں کی کسی کو خبر نہیں تھی۔ملزم کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ اس کیخلاف کیا کارروائی ہوئی۔
ایک تازہ واقعے میں ایک ریٹائرڈ اسکول ماسٹر کو اپنے نابالغ طلباء کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ خیرپور میں ایک ٹیوشن سینٹر چلانے والا سارنگ شر ایک عادی مجرم ہے اورسو سے زائد بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے اور ان کی فلم بندی کرنے کا ذمہ دار ہے۔
سارنگ شر کے خلاف متعدد شکایات سامنے آئی تھیں لیکن وہ تدریس کے پیشے کی آڑ میں ایک بااثر سمجھا جاتا تھا۔ وہ مقامی برادری میں مشہور تھا ، وہ سماجی اور تعلیمی تحریکوں کا حصہ تھا اگرچہ اسے پکڑ لیا گیا ہے لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے خلاف کیا کارروائی ہوگی۔
ہمیں زیادہ موثر قانون سازی کرنے اور انسانی حقوق کی وزارت کو زیادہ فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ گھریلو مزدوری یا کسی دوسرے کام کے طور پر بچوں کی خدمات حاصل کرنے پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔
معاشرے میں بچوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کا سلسلہ تیز کیا جائے اور حکومت کے علاوہ سول سوسائٹی کی طرف سے بھی بچوں کی حفاظت کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔