ایران میں پرتشدد مظاہرے چھٹے روز میں داخل، سرکاری ادارے بند، متعدد افراد ہلاک

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران
(فوٹو: اے بی سی نیوز)

ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں خوفناک کمی کے خلاف پرتشدد مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔ اس دوران سرکاری و تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ جھڑپوں کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں مہنگائی مخالف احتجاج کا پرتشدد سلسلہ تاحال جاری ہے ،  احتجاج کا آغاز مبینہ طور پر دکانداروں نے کیا جو  ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں بے تحاشا کمی پر  مشتعل نظر آئے۔

تہران اور فارس کے علاوہ مرودشت اور لردگان میں بھی مظاہرے ہوئے۔ ایرانی فورس مظاہرین کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں 6مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ مظاہرین نے پتھراؤ کرکے درجنوں پولیس اہلکاروں کو زخمی کردیا۔

اکتیس صوبوں کے حامل ایران کے کئی صوبوں میں پرتشدد احتجاج سے تحفظ کے پیش نظر اسکول، یونیورسٹیز، تعلیمی انسٹیٹیوٹ اور دیگر سرکاری ادارے بند ہوگئے۔ سب سے شدید جھڑپیں مبینہ طور پر ایرانی شہر ارنا میں ہوئیں جو تہران سے 300 کلومیٹر دور جنوب مغربی شہر ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران میں حالیہ جھڑپیں اور مظاہرے 2022 میں مہسہ امینی کے دورانِ حراست انتقال کے بعد ہونے والا سب سے بڑا پرتشدد احتجاج قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ پر امن مظاہرین پر تشدد کی صورت میں مداخلت بھی کی جاسکتی ہے۔

اس پر ایرانی قیادت نے جواب دیا کہ ایران کی سلامتی کی جانب بڑھنے والے ہر مداخلت پسند ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا۔ احتجاج ایران کا اندرونی معاملہ ہے جس میں امریکی مداخلت نہ صرف خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہے۔ عالمی برادری کو امریکی جارحیت پسندی کا نوٹس لینا ہوگا۔

Related Posts