وبائی مرض اور اپوزیشن کا احتجاج

تازہ ترین

تازہ ترین

اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے اس ہفتے کے آخر میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے ملک گیر احتجاج اور ریلیاں شروع ہو جائیں گی، جس کے بعد سیاسی درجہ حرات اپنے عروج پر پہنچ جائے گا،مگرجس حساب سے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، اس بات کی بھی توقع کی جارہی ہے کہ کورونا کی دوسری لہر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

اپوزیشن کا اتحاد (پی ڈی ایم)اپنا پہلا جلسہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں منعقد کریگا، جبکہ پیپلز پارٹی 18 اکتوبر کو کراچی میں ایک جلسہ کرے گی۔جس کو سانحہ کارساز کی یاد میں ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ بات قابل تشویش ہے کہ تاحال بڑے بڑے اجتماعات پر اب بھی پابندی ہے، اس لئے عالمی وبائی بیماری کے باعث اس طرح کے سیاسی جلسے نہیں ہونے چاہئیں۔

کورونا کے کیسز میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور مثبت شرح دو فیصد تک پہنچ چکی ہے، وبائی مرض کے اعدادو شمار کے حساب سے یہ بہت زیادہ اضافہ ہے۔ حکومت نے پہلے ہی کراچی، اسلام آباد اور یہاں تک کہ آزاد کشمیر میں بھی بہت سے علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنا شروع کردیا ہے۔ سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جہاں اپوزیشن کا احتجاج کا ارادہ ہے اور کورونا کی دوسری لہر بھی قریب ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کورونا وائرس سے متعلق متوقع دوسری لہرکے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ اس کا آغاز تعلیمی اداروں سے ہوسکتا ہے جو پچھلے مہینے سے دوبارہ کھولے گئے ہیں لیکن وہاں تاحال حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں کیا جارہا۔ سردیوں کا موسم قریب تر ہے اور عوام کی طرف سے کسی بھی قسم کی لاپرواہی دوسری لہر کو زیادہ خوفناک طور پر متحرک کرسکتی ہے۔

سیاسی تقریبات اور بڑے بڑے اجتماعات اس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں اور ایک بار پھر صحت کا نظام دباؤ میں آسکتا ہے، سیاسی جلسے وائرس پھیلانے میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں، جس سے بہت سے افراد اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی جب بغیر کسی احتیاط کے ایک سیاسی تقریب میں شرکت کی تھی، تو ان کا ایک ساتھی اس وائرس کا شکار ہوگیا۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کا یہ مشورہ ہے کہ اپوزیشن اپنے احتجاج کو اگلے سال تک ملتوی کردے، سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اپنے کارکنوں کی جان اور صحت کو خطرہ میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ اپوزیشن کی پوری کوشش ہوگی کہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے، لیکن انہیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور احتجاجی تحریک کے لئے یہ خطرناک وقت ہے۔

سیاسی سرگرمیاں پوری دنیا میں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں کیوں کہ انتخابات کالعدم یا تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن کو اس بات کومد نظر رکھنا چاہئے کہ اس کی جانب سے کئے جانے والے احتجاج کے نتیجے میں صحت کا بحران پیدا ہوسکتا ہے، جس کا اثر ہم سب پر پڑ سکتا ہے۔

Related Posts