پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وکیل علی زمان کو اغواء کے بعد رہا کر دیا گیا تاہم سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں ان پر مبینہ تشدد کے واضح نشانات سامنے آئے ہیں۔
پی ٹی آئی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سیاسی کارکن پر تشدد نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیے ایک وارننگ ہے کہ ریاستی جبر اور ظلم کسی پر بھی ہو سکتا ہے۔
علی زمان ایڈووکیٹ تو رہا ہوگئے
لیکن ظالم جابر ریاست نے تشدد کرکے کوئی کثر نہیں چھوڑی
کب تک یہ ظلم جاری رہے گا
یہ ایک سیاسی ورکر پر تشدد نہیں ہے بلکہ ہر پاکستانی کے لیے ایک آواز ہے
کہ یہ ظلم ہر کسی پر بھی ہو سکتا ہے https://t.co/an1PnZzujk pic.twitter.com/9PYJxQhbab— Sadiq Afridi صدیق آفریدی (@iamSadiqAfridi) February 11, 2026
پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس ہینڈل سے جاری کیے گئے ایک پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی زمان اور ان کے بھائی کو گزشتہ روز راولپنڈی کے مصروف کچہری چوک سے تین بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں سوار نامعلوم افراد نے اغواء کیا۔
پاکستان تحریک انصاف کی ایڈوکیٹ علی زمان کے کچہری چوک سے اغواء کی مذمت:
پاکستان تحریک انصاف پشاور سے فارم-45 کے ایم پی اے و سابق سیکرٹری جنرل آئی ایل ایف خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ علی زمان کے راولپنڈی کے مصروف کچہری چوک سے اغواء کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
اطلاعات کے…
— PTI (@PTIofficial) February 10, 2026
پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بزدلانہ عمل ہر صورت ناقابل قبول ہے اور فوری طور پر علی زمان اور ان کے بھائی کی بحالی اور اغواء میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اغواء اور تشدد کے یہ واقعات سیاسی کارکنوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








