ملک میں سیاست تقسیم کا شکار ہے،یہ آئین ہی ہے کہ جسے قوم اور ووٹر کی رہنمائی کرنی ہوتی ہے، انتخابات میں تاخیر کا خود سازختہ جنون صحیح عمل نہیں ہے، خیبرپختونخوا سے آنے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ صوبائی گورنر اس بنیاد پر انتخابات میں تاخیر کرنے پر غور کر رہے ہیں کہ معاشرے کے کچھ حلقے چاہتے ہیں کہ انتخابات سے قبل مردم شماری کرائی جائے۔ یہ خالصتاً ایک ذاتی خواہش ہے، اور آئین کے منافی ہے۔
آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر زیادہ سے زیادہ 90 دنوں کے اندرانتخابات لازمی کرانے ہوں گے، اس میں اگر اور مگر کا کوئی ذکر نہیں ہے، نہ ہی انتظامی تدبیر کی کوئی گنجائش ہے۔ اس طرح، انتخابات میں تاخیر کے مطالبات قانون اور آئین کے مطابق غیر مصدقہ ہیں، گورنر کے پی کو بہتر مشورہ دیا جائے کہ وہ آئین کی پاسداری کریں، اور اس کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
پاکستان اس وقت ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے، پچھلے سال اپریل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے، کم از کم کہنے کے لیے، سیاست بے چینی کا شکار ہے، ایک ایسے وقت میں جب معیشت نازک موڑ پر ہے اور مخلوط حکومت اپنی بقا کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، ستحکام کی بحالی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی مطالبہ عام انتخابات ہیں۔
تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے بہتر مفاد میں سر جوڑنے کی ضرورت ہے، مردم شماری کا انعقاد اور سیکورٹی خدشات اہم ہیں لیکن سیاسی استحکام کے وسیع تر مفاد میں انتظار کیا جا سکتا ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر لیے گئے فیصلے سخت ہوں گے، اور پاکستان اس وقت نازک موڑ پر ایک اور خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں