ملک بھر میں اس وقت ہزاروں لوگ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے ہوئے خطرات کے پیش نظر گھروں میں قرنطینہ میں ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، مگر اس ساری صورتحال کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے، ایک تو بیماری اور دوسری جانب شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کے عذاب نے شہریوں کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔
موجودہ صورتحال میں مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تر دفاتر بھی بند ہیں، اس کے باوجود بجلی کی طویل دورانئے کی لوڈشیڈنگ کے الیکٹرک کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟ دوسری جانب شہر قائد کے کئی علاقوں میں 12، 12گھنٹوں کی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ روز کا معمول بن گئی ہے، جس کے باعث شہری ڈپریشن کا شکار ہورہے ہیں۔
کے الیکٹرک حکام کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ لوگ اسپتالوں اور گھروں میں قرنطینہ میں ہیں، وہ اس گرمی میں بیماری کے باعث گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے، طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث بعض علاقوں میں پانی کی قلت بھی پیدا ہوچکی ہے، واٹر بورڈ کے حکام کو اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
کراچی میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، گھمبیر صورتحال کے پیش نظر شہر کے اکثر علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کی زد میں آنے ولے علاقوں کے مکین بھی بد ترین لوڈشیڈنگ کی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔ لہٰذا کے الیکٹرک کو عوام کے وسیع تر مفاد میں سوچتے ہوئے موجودہ لوڈشیڈنگ کی بڑھتی ہوئی صورتحال کو کنٹرول کرنا ہوگا۔
اس صورتحال میں یہ سندھ حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کے الیکٹرک کو پابند کرے کہ وہ بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے اجتناب کرے۔سندھ حکومت کے ذمہ داران وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سید ناصر حسین شاہ اور دیگر موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔