وفاقی حکومت نے حج پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے یہ سہولت دی ہے کہ اگر کوئی رجسٹرڈ عازمِ حج کسی ناگزیر وجہ سے خود حج ادا نہ کر سکے تو اس کی جگہ اس کا قریبی رشتہ دار حج ادا کر سکے گا۔
وزارتِ مذہبی امور نے ایسے عازمین کے لیے پالیسی جاری کی ہے جو انتقال کر گئے ہوں یا شدید بیماری کی وجہ سے حج پر جانے سے قاصر ہوں۔ اس پالیسی کے تحت اگر کوئی شخص کسی مجبوری یا وفات کے باعث حج نہ کر سکے تو اس کے قریبی رشتہ دار کو اس کی جگہ جانے کی اجازت ہوگی۔
طریقہ کار
سرکاری دستاویز کے مطابق اگر کوئی شخص ذاتی وجوہات کی بنا پر حج پر نہیں جا سکتا تو وہ کسی اور کو نامزد کر سکتا ہے یا پھر جمع شدہ رقم واپس لینے کا حق بھی رکھتا ہے۔ تاہم رقم کی واپسی یا کسی اور کو بھیجنے کے لیے معقول وجہ اور بیماری یا وفات کا دستاویزی ثبوت پیش کرنا لازمی ہوگا۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ درخواست گزار کو ایک مہر شدہ حلف نامہ جمع کرانا ہوگا جس میں حج پر نہ جانے کی وجہ درج ہو، اس کے ساتھ بینک رسید اور شناختی کارڈ کی کاپی بھی منسلک کرنا ہوگی۔
اس سے قبل وزارت نے اعلان کیا تھا کہ پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت 37,903 نئی درخواستیں وصول کی جائیں گی، جبکہ گزشتہ سال رہ جانے والے 22,097 درخواست گزار پہلے ہی رجسٹرڈ ہیں۔
وزارت کے مطابق پرائیویٹ حج آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گزشتہ سال کے رہ جانے والے درخواست گزاروں کو ترجیح دیں اور ان کی رجسٹریشن مکمل ہونے کا حلف نامہ جمع کرائیں۔
پرائیویٹ حج آپریٹرز کے لیے کل کوٹہ 60,000 عازمین کا مقرر کیا گیا ہے، جس میں گزشتہ سال کے 22,097 رہ جانے والے عازمین اور اس سال کے 37,903 نئے درخواست گزار شامل ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








