امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کی بعض ایسی ٹیکنالوجیز تک رسائی روک دی ہے جو فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
کمپنی کے مطابق اسرائیلی فوج کی ایک خفیہ انٹیلیجنس یونٹ کو مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ سروسز سے اس وقت کاٹ دیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ وہ ان پلیٹ فارمز کو فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اس یونٹ نے کمپنی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی کیونکہ وہ اس کے اے آئی اور ڈیٹا ٹولز کو غلط طریقے سے استعمال کر رہا تھا۔
سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کو پانچ سال قید کی سزا، سیاسی زوال کی حیران کن داستان
مائیکروسافٹ کے صدر اور نائب چیئرمین بریڈ اسمتھ نے کہا کہ یہ فیصلہ گارڈین کی ایک تحقیقی رپورٹ کے بعد کیا گیا، جس نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی فوج کے یونٹ 8200 نے مائیکروسافٹ کے ایژور کلاؤڈ کو استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کے موبائل فون ریکارڈ سے ڈیٹا چرا کر ان کی جاسوسی کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اسرائیل کو افراد کے مقامات اور ذاتی معلومات کو ٹریک کرنے کے قابل بناتی تھی تاکہ انہیں انٹیلیجنس مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
رپورٹس کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے انسانی حقوق سے متعلق خدشات کی بنیاد پر اسرائیلی فوج پر اس طرح کی پابندیاں لگائی ہیں۔
یہ قدم اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے جو مائیکروسافٹ کے ملازمین اور سرمایہ کاروں کی جانب سے ڈالا جا رہا تھا۔ وہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ کمپنی کے تعلقات پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








