پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئے، جس میں واشنگٹن میں جاری چار روزہ اجلاس کے دوران ایک مضبوط مفاہمتی بنیاد قائم ہو گئی۔
سیکرٹری تجارت جاوید پال کی قیادت میں پاکستانی وفد نے ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جو برآمدی شعبوں، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات، کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ 9 جولائی 2025 کی مقررہ تاریخ سے قبل طے پایا،اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے تو امریکا دوبارہ پاکستانی برآمدات پر بھاری ٹیرف لگا سکتا تھا۔ اس مفاہمتی ڈیل سے 29 فیصد تک بند ٹیرف کے مستقل طور پر ختم ہونے کا خدشہ ختم ہو گیا ہے۔
امریکا اپنی خام تیل کی برآمدات پاکستان میں مزید بڑھا سکتا ہے جبکہ کان کنی، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں دو طرفہ سرمایہ کاری کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک کے ساتھ شراکت سے پاکستان کو مزید معاشی تعاون حاصل ہو سکتا ہے۔
ابھی فریم ورک پر اصولی اتفاق ہوا ہے، لیکن حتمی نوٹیفکیشن امریکا کی جانب سے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد جاری کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








