دینی مدارس، عصری تعلیم اور تازہ فریب-تیسری قسط

تازہ ترین

تازہ ترین

اس سخت گیر ماحول میں 90 کی دہائی کے اوائل میں ہی دارالافتاء و الارشاد اچانک بے سبب ہی قلعے کی شکل اختیار کرتا نظر آیا۔ اس کے جس گیٹ پر صرف چوکیدار نظر آیا کرتا تھا اب مسلح برجیوں کی آغوش میں نظر آنے لگا تھا۔ مجھے یاد ہے ہم نے بہت کوشش کی کہ اس نہایت سخت مسلح سیکیورٹی نظام کا سبب جان سکیں مگر اس ادارے کے وابستگان اور حضرتِ والا کے مریدوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ نہ تو ان کےحضرتِ والا نے کوئی ایسی تصنیف لکھی تھی جس کے ردعمل میں ان پر کسی فرقے کی جانب سے حملے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہو اور نہ ہی اس ادارے میں ڈکیتی یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور واردات ہوئی تھی۔ 240 گز یا اس سے کچھ زیادہ رقبے کی اس عمارت میں اب بلا مبالغہ مفتیوں سے زیادہ باڈی گارڈز نظر آ رہے تھے۔ سبب پوچھا جاتا تو جواب پراسرار سی خاموشی کی صورت ملتا۔ مگر یہ سبب زیادہ دیر چھپا نہ رہ سکا۔ مفتی سازی کی یہ چھوٹی سی تعلیم گاہ اب “جہاد” کے میدان میں قدم رکھنے جا رہی تھی۔

شاید حضرتِ والا کو عمر کے آخری حصے میں محمود غزنوی بننے کا شوق پیدا ہوگیا تھا۔ یا پھر مفتی عبد الرحیم کے دل میں سبکتگین بننے کی خواہش جاگ اٹھی تھی۔ ان کی جانب سے اپنے مکتب فکر کی سب سے مضبوط عسکری تنظیم کی سرپرستی شروع کردی گئی اور وہ بھی یوں کہ اس کے ایک اہم عہدیدار کو تقریبا گود ہی لے لیا گیا۔ ان موصوف کے لئے روحانی لے پالک کی اصطلاح زیادہ مناسب ہوگی۔ اسی لے پالک کو اکسا کر ایک دو سال بعد تنظیم میں امیر سے بغاوت کی بنیاد رکھدی گئی۔ اس کھیل کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک اور تنظیم سے “انضمام” کی اسکیم پر عمل شروع کردیا گیا اور وہ بھی یوں کہ دونوں تنظیموں کے سربراہوں سے چھپ چھپا کر۔ خیال یہ تھا کہ جسے گود لیا گیا ہے اسی کو امارت دلوا کر تنظیم پر قبضہ جما لیا جائے گا مگر کشف و کرامات والوں کی یہ اسکیم فیل ہوگئی۔ انضمام تو ہو گیا مگر ان کے لے پالک جس عہدے پر تھے اسی عہدے پر رہ گئے۔ بلکہ ایک لحاظ سے تنزل ہوگیا ۔کیونکہ اب شعبۂ اطلاعات و نشریات ان کے پاس نہ رہا تھا۔

پہلی اسکیم کی ناکامی پر چند ماہ کے اندر اندر ہی نئی اسکیم بنائی گئی جس کا نتیجہ لے پالک کی کشمیر میں گرفتاری کی صورت ظاہر ہوا۔ یوں نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ اسی دوران کسی نئے خیال کے تحت ایک فرقہ پرست تنظیم کی سرپرستی شروع کردی گئی۔ یہاں بھی خواب قبضے کا تھا مگر وہ تنظیم غالباً ایک سال کے اندر اندر ہی ان سے بدک گئی۔ یہی وہ عرصہ ہے جب افغانستان میں طالبان ابھر آئے تھے۔ چنانچہ بھاری چندوں کی مدد سے ان کی ٹاپ قیادت تک رسائی حاصل کرلی گئی اور بہت قریبی مراسم پیدا کر لئے گئے۔ مگر نائن الیون کے فوراً بعد افغان طالبان نے بھی ان کا سازشی کردار بھانپ لیا اور انہیں اتنی سخت وارننگ جاری کی اس کے بعد افغانستان تو کجا یہ اس کی سرحد سے لگنے والے پاکستانی اضلاع میں بھی قدم رکھنے کی ہمت نہ کر سکے۔ افغان طالبان کے حوالے سے ان کی اسکیم یہ تھی کہ ان کے امیر المؤمنین تو ملا عمر ہی رہیں مگر ملا عمر اطاعت مفتی رشید احمد کی کریں۔

اس حوالے سے کراچی سے باقاعدہ ہدایات قندھار جانے لگی تھیں۔ اس اسکیم کی ناکامی سے انہیں زیادہ مایوسی نہ ہوئی۔ کیونکہ نائن الیون سے کچھ عرصہ قبل ان کا لے پالک انڈین طیارے کی ہائی جیکنگ کے نتیجے میں رہا ہوکر آچکا تھا۔ اور آتے ہی دارالافتاء و الارشاد میں پناہ گزیں ہوچکا تھا۔ حضرتِ والا کے کشف و کرامات کے دم پر ایک نئی عسکری تنظیم بن چکی تھی جس کا سربراہ ان کا لے پالک ہی تھا۔ یعنی چھ سال پرانا خواب بالآخر شرمندۂ تعبیر ہوچکا تھا۔ لے پالک اپنے جلسوں میں احمد شاہ ابدالی بن کر چھ لاکھ مجاہدین کے ذریعے بھارت پر حملے کے دعوے کر رہا تھا۔ جبکہ حالت یہ تھی کہ تمام کشمیری عسکری تنظیموں کی پوری افرادی قوت ملا کر بھی دس ہزار نہ تھی۔ مگر خدا کا کرنا دیکھئے کہ پہلے یہ تنظیم انتشار کا شکار ہوئی اور پھر ایک دن لے پالک بھی چپکے سے سبکتگین سے کھسک لیا۔

دارالافتاء و الارشاد ایک بار پھر فقط مفتی سازی کی تعلیم گاہ بن کر رہ گیا مگر داد دیجئے قبلہ مفتی عبد الرحیم کو کہ وہ ایک نئی اسکیم کے ساتھ میدان میں کود گئے۔ یہ نئی اسکیم “ویلفیئر” کے راستے عسکریت کی خدمت تھی۔ چنانچہ ایک مشہور زمانہ ٹرسٹ بنا کر سرگرمیاں شروع کردی گئیں۔ مگر یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھی اور ٹرسٹ جلد ہی کالعدم قرار دے دیا گیا۔ یہی کام نئے نام سے شروع کرنے کی کوشش کی گئی تو نیا ٹرسٹ بھی پابندی کا شکار ہوگیا۔ اسی دوران وزیرستان میں عسکری سرگرمیاں شروع ہوئیں جن کے اثرات اسلام آباد کی لال مسجد تک آئے تو وہاں عین بحران کے دوران ان کے ہاں سے “مقدس بریف کیس” پہنچنے شروع ہوگئے۔ حضرت مفتی عبد الرحیم نے گویا طے کر رکھا تھا کہ فاتح بن کر ریاست مدینہ قائم کرنی ہے مگر نہ دعا قبول ہوتی تھی اور نہ ہی اسکیم چار قدم چل پاتی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ ان کی ناکامیوں کی داستان اتنی طویل ہے کہ ان کے غیر جہادی پروجیکٹس بھی اس لسٹ میں آتے ہیں۔ مثلاً ان کا پاکستان بلڈ بینک جو بنا اور تحلیل ہوگیا، ان کا وہ تھنک ٹینک جس کی سربراہی عدنان کاکا خیل کو دی گئی تھی اور آخر میں پرندوں کی دکان بن کر بند ہوگیا۔ اسی عرصے کے دوران جامعۃ الرشید کی صورت ایک بڑا مدرسہ وجود میں آچکا تھا۔ جس کی منصوبہ بندی 1996ء میں ہوئی تھی۔ اس کا اسی سال شائع ہونے والا تعارفی کتابچہ ثابت کرتا ہے کہ یہ پاکستان کا واحد مدرسہ ہے جس کی بنیاد ہی “جہادی مرکز” کے طور پر رکھی گئی تھی۔ یہ کتابچہ آدھا مفتی عبد الرحیم نے لکھا ہے اور آدھا مفتی رشید احمد نے۔ مفتی عبد الرحیم اس کے صفحہ 9 پر فرماتے ہیں:

“گزشتہ تحریر میں جامعۃ الرشید کیلئے 100 ایکڑ زمین کا زیرِ غور ہونا مذکور ہے۔ تحقیق کے بعد اس میں چند ناقابل قبول نقائص ظاہر ہوئے۔ اس لئے اس کو چھوڑ دیا گیا۔ اللہ تعالی نے اس کے عوض اس سے بہترین موقع پر زمین دلادی۔ احسن آباد میں شارع سید احمد شہید، شارع ملا جیون، اور شارع مولانا وصی اللہ رحمھم اللہ کے درمیان۔ اس طرح تین مشہور علمائے امت، اور بہت بلند پایہ اولیاء اللہ کی طرف نسبت ہوگئی۔ بالخصوص جامعۃ الرشید چونکہ مرکز جہاد بھی ہے ، اس لئے شارع سید احمد شہید رحمہ اللہ تعالی کی طرف جو نسبت منجانب اللہ ہوگئی وہ قبول جہاد، اس میں ترقی، اور نمایاں خدمات کی بشارت ہے۔”

یہ عبارت مفتی عبد الرحیم نے 1996ء میں لکھی ہے۔ اور آج ہم 2021ء میں کھڑے ہیں۔ گویا آج کی تاریخ میں ہم مفتی عبد الرحیم اور ان کے نام نہاد “مرکز جہاد” کی 25 سالہ تاریخ پر گواہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جسے وہ مریدوں کے سامنے “منجانب اللہ بشارت” کے طور پر پیش کر رہے تھے وہ بشارت زمیں کھا گئی یا آسمان نگل گیا ؟ کیا وہ آج شارع سید احمد شہید کی نسبت سے اپنے ادارے کو “مرکز جہاد” کہنے کی جرات بھی کر سکتے ہیں ؟افغان طالبان سمیت ہر جہادی و فرقہ پرست جماعت نے آپ پر تین حرف بھیجے۔ سو آپ ہی بتایئے کہ پچھلے پچیس سال کے دوران آپ کے اس مرکزِ جہاد نے کونسی “قبولِ جہاد، اس میں ترقی، اور نمایاں کامیابیاں” حاصل کی ہیں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اب آپ واقفانِ حال سے بھی دردمندانہ اپیلیں کرتے ہیں کہ خدا را ہماری پچھلی تاریخ کا ذکر تحاریر میں مت کیا کریں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ آپ کی اس تاریخ کا مسلسل ذکر کیوں ناگزیر ہے۔ ملک میں عسکریت کے فروغ پر آپ نے کم و بیش 25 سال صرف کئے ہیں۔ تعلیم سے زیادہ پیسہ آپ نے اس کام پر صرف کیا ہے۔ اگر آپ اپنی اس تاریخ پر نادم ہوتے اور اس پر قوم سے معافی مانگ چکے ہوتے تو کوئی آپ کو اس کا طعنہ کیوں دیتا ؟ آپ کا یہ غلطی کا اعتراف کئے بغیر اپنی تاریخ کو چھپانا اس امکان کو باقی رکھتا ہے کہ کل کلاں اگر پھر کوئی جنرل ضیاء آگیا تو آپ یکدم تاریخ کے اس دہکتے تندور سے ڈھکن اٹھا کر اس نئے خلیفہ راشد کے سامنے اسے بطور سی وی پیش کریں گے۔ اور از سر نو فساد کی بنیاد رکھیں گے۔ سو جب تک آپ اپنی اس تاریخ سے خود کو بری نہیں کرتے، یہ آپ کی اے سی آر کا حصہ رہے گی۔

ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم و بیش 25 برس جاری رہنے والی ان عسکری سرگرمیوں کیلئے رقم کہاں سے آتی تھی ؟ اس دوران مفتی رشید احمد اور ان کے خلفاء کے ہاتھوں اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس رقم کے ذرائع کیا تھے ؟ اس سوال کا جواب آپ کے ہوش اڑانے کے لئے کافی ہے۔ یہ جواب اسی مذکورہ رسالے میں خود مفتی عبد الرحیم کی درج کردہ ان دس شرائط میں موجود ہے جو حضرتِ والا نے طے کی تھیں۔ جگر تھام کر دس میں سے چوتھی شرط پڑھئے:

“مالی تعاون صرف ایسے مخلصین سے قبول کریں، جو رسید کے خواہشمند نہ ہوں۔

وہ لوگ جو مالیاتی امور کی تین اصطلاحات۔ منی ٹریل، بلیک منی، اور منی لانڈرنگ سے واقف ہیں وہ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شرط کے پیچھے کیا مقاصد پوشیدہ تھے۔ کسی کے ابا حضور بھی مفتی رشید احمد اور ان کے ان تین خلفاء کی زیر زمین سرگرمیوں کی منی ٹریل نہیں پکڑ سکتے۔ صرف اس ایک ہولناک شرط کے نتیجے میں ہی یہ سلاخوں کے پیچھے جانے کے مستحق ہیں لیکن جن کی پشت پر 30 سال سے لڑکی کے بھائی کھڑے ہوں ان کا قانون کیا بگاڑ سکتا ہے ؟

جامعۃ الرشید کا یہ پہلا تعارفی کتابچہ ایک دلچسپ دستاویز ہے۔ اس کے 21 میں سے دس صفحات مفتی عبدالرحیم نے لکھے ہیں جبکہ گیارہ صفحات خود حضرتِ والا کے قلم سے نکلے ہیں۔ اگر میں اسے ایک جملے میں بیان کروں تو یہ ایک مبالغۃ الآراء دستاویز ہے۔ اس میں مفتی عبد الرحیم اپنی تحریر کا نصف حصہ حضرت والا کے محاسن پر صرف کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ حضرتِ والا بھی جواباً مفتی عبدالرحیم کی دریافت کا قصۂ طولانی اس دردناک انداز میں بیان کرتے ہیں کہ لگتا ہے حضرتِ والا امیر الملائکہ کو اپنا نائب مقرر کرنے کا 22سالہ قصہ بیان کر رہے ہیں۔ جبکہ اس تعارفی کتابچے کے آغاز میں جامعۃ الرشید کے قیام کیلئے زمین وغیرہ کے حصول کی جو شرائط بیان ہو رہی ہیں انہیں پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کے بعد سب سے کڑی شرائط جامعۃ الرشید کی تعمیر کے لئے ہی رکھی گئی ہوں گی۔ باقی ماندہ تحریر میں اس ادارے کیلئے کچھ ہدایات مفتی عبد الرحیم حضرتِ والا سے نقل کرتے ہیں جبکہ کچھ ہدایات وہ ہیں جنہیں بلا تسلسل اور غیر مربوط طور پر خود حضرتِ والا نے لکھا ہے۔ پچھلی سطور میں مفتی عبد الرحیم صاحب کی نقل کی گئی عبارت میں آپ ان کے اس وہم کا حشر تو ملاحظہ فرما چکے جسے یہ “من جانب اللہ بشارت” قرار دے رہے تھے۔ اب آپ کی خدمت میں ایسی ہی ایک عبارت حضرتِ والا کی پیش کرنے جا رہا ہوں۔ اس کا انجام بھی آپ خود دیکھ لیجئے گا کہ کیا ہوا۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں: دینی مدارس، عصری تعلیم اور تازہ فریب-دوسری قسط

Related Posts