وزیر اعظم عمران خان نے وزارت تعلیم کی قومی نصاب پر عملدرآمد کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نصاب تعلیم میں ضرورت کے مطابق تبدیلیوں کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ چھٹی تا بارہویں جماعت کے لیے نصاب کو اس سال کے آخر تک حتمی شکل دے دی جائے،نصاب تعلیم پر عملدرآمد کا مسلسل جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلیاں لائی جائیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے سال 2018 میں حکومت سنبھالنے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں تعلیمی نصاب رائج کیا جائے گا۔ اسی سلسلے میں پہلا مرحلہ مکمل کرکے دو اگست 2021 سے پنجاب کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں میں یکساں نصاب لاگو کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر صوبوں میں بھی یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
نصاب تعلیم ایک ترتیب یا دستاویز ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کوئی تعلیمی کورس، خواہ اسکولی، کالج، جامعاتی، پیشہ ورانہ، تفریحی، صحت و تندرستی یا کوئی اور نوعیت کا ہو، کن مرکبات پر مشتمل ہے، اس کے اغراض اور مقاصد کیا ہیں، اس کی توقعات کیا ہیں اور اس کا مطالعہ کرنے والوں یا اسے اپنانے والوں کو کیا کیا کرنا ہوگا۔ نصاب تعلیم میں مضامین کا تذکرہ ہوتا ہے،یہ مضامین اگر چہ کہ اسکول کی ہر جماعت میں پڑھائے جاتے ہیں، مگر ان میں ہر سطح پر مواد مختلف ہوتا ہے۔
وفاقی وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ نصاب کی تیاری کے ضمن میں تمام مکاتب فکر خصوصاً علماء کرام سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے جبکہ اساتذہ کی ٹریننگ اور امتحانات کے معیار پر بھی توجہ دی گئی ہے تاہم سندھ حکومت کاکہنا ہے کہ آئین میں تعلیم اور نصاب صوبائی اختیار ہے، اگر سندھ شامل نہیں تو یہ یکساں اور وفاقی نصاب نہیں بن سکتا جبکہ اقلیتوں کاکہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے تیار کیا گیا نیا نصاب آئین کے اس حصے کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔
وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ تاریخ اسلام کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺکی حیات مبارکہ سے ماخذ سنہرے اصول بچوں کو پڑھائے اور سمجھائے جائیں،قومی یکساں نصاب تعلیم پر عملدرآمد کے عمل کو صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے جلد مکمل کیا جائے جبکہ اقلیتوں کا کہنا ہے کہ اس نصاب میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اردو کے مضمون میں اسلامیات کا درس دیا جا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شائد ہم واپس 20 سال پیچھے جارہے ہیں جب لازمی اسلامیات پڑھنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ یکساں نصاب اچانک سے نافذ نہیں ہوسکتا، اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کریں دوسری جانب وفاق کا کہنا ہے کہ یکساں نصاب پنجاب، خیبرپختونخوا کی حکومتیں منظور کرچکی ہیں جبکہ سندھ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
حکومت کی نیت پر کوئی شبہ نہیں، یکساں نصاب کا مقصد ہربچے کو یکساں طور پر معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے لیکن یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ نصاب تعلیم کا تعلق کئی نسلوں سے ہوتا ہے، اس میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے ایک وسیع تر مشاورت اور مسلسل غوروفکر کی ضرورت ہوتی ہے۔
وفاقی حکومت نصاب کے حوالے سے صوبوں اور اقلیتوں کے تحفظات کو بھی سننا اور اگر ممکن ہو تو ضروری تبدیلیوں پر بھی غور کرنا چاہیے تاکہ درسی کتب میں موجود نقائص کو دور کرکے ایک متفقہ یکساں قومی نصاب کے نفاذ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔