فیصل آباد میں ایک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے، ایل پی جی کم بھرنے پر جھگڑے کے دوران دکاندار نے رکشہ ڈرائیور پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی، کم عمر بیٹا خود رکشہ چلا کر باپ کو اسپتال لایا مگر وہ جانبر نہ ہوسکا۔
فیصل آباد کے علاقہ غلام محمد آباد میں مبینہ طور پر رکشے میں 30 روپے کی ایل پی جی کم بھرنے پر جھگڑے کے دوران دکاندار نے رکشہ ڈرائیور کو پیٹرول چھڑک کر بیٹے کے سامنے آگ لگادی۔
رپورٹ کے مطابق جلتے ہوئے شخص کو بچانے اور مدد کیلئے کوئی نہ آیا تو کم عمر بیٹے نے خود رکشہ چلایا اور جھلسنے والے باپ کو الائیڈ اسپتال پہنچایا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گیا۔
ڈرائیور کے بیٹے کا کہنا ہے کہ والد گیس بھروانے دکان پر گئے تھے، دکاندار نے زیادہ گیس ڈال دی جس پر جھگڑا ہوا، بعد میں والد گیس کے پیسے دینے گئے تو دکاندار نے پیٹرول سے بھری بوتل میں آگ لگا کر والد پر پھینک دی جس سے وہ جل گئے۔
مقتول رکشہ ڈرائیور کا باپ بھی انصاف کی دہائی دیتا رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کے ساتھ بڑا ظلم ہوا، ہمیں انصاف چاہئے، ظالم نے ان بچوں کے سر سے باپ کا سایہ چھین لیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔