ایران جنگ کے بھڑکتے شعلے: یہ دھواں سب کچھ دھندلا دے گا

تازہ ترین

تازہ ترین

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز پاکستانی ہم منصب و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے اور امریکا ایران جنگ سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس کے بعد حکومتی ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ عباس عراقچی  مختصر ٹیم کےساتھ آج رات اسلام آباد پہنچیں گے اور پاکستانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم بھی اسلام آباد میں ہی موجود ہے، جس کے بعد امریکا-ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے مابین جاری جنگ بندی کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی  کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ صدر ٹرمپ کے غیر متوقع قسم کے بیانات اور دوسری جانب سے ایران کی جچی تلی خارجہ پالیسی پر مبنی بیانات جاری ہیں، تاہم ایران میں بھی کچھ شخصیات ایسی ہیں جو صدر ٹرمپ کے لفظی حملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دے رہی ہیں جس سے خطے میں تشویش پھیلتی دکھائی دیتی ہے۔

خطے میں بیک وقت کئی محاذوں پر تناؤ برقرار ہے۔ جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے، جس کے باوجود جنگ بندی بظاہر نافذ العمل ہے، مگر عملی طور پر اس کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیلی خلاف ورزیوں اور جنوبی لبنان پر حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس صورتحال نے جنگ بندی کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایران کے معاملے پر امریکی دباؤ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس اہم سمندری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔ تہران کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ امریکہ خطے میں موجود اپنی بحری موجودگی اور مبینہ ناکہ بندی کے ذریعے ایران پر اقتصادی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات کسی معاشی محاصرے سے زیادہ ممکنہ فوجی تصادم کی تیاری کا حصہ ہیں۔

حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ ایرانی تہذیب کو ختم کردیں گے، جس کا مطلب تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ رہا کہ ایران پرجوہری ہتھیاروں کا استعمال ہوسکتا ہے تاہم امریکی صدر نے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ  امریکا ایران کے خلاف کسی جوہری ہتھیار کے استعمال کا ارادہ نہیں رکھتا۔ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تاحال ناکہ بندی نہیں ہٹائی اورانہیں خوف ہے کہ اگر وہ ہٹا لیں گے تو امریکی عوام اور دنیا کو یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے طاقتور ترین صدر نے ایرانی حکومت کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ، اس لیے وہ ایسا کرنے سے گریزاں ہیں۔

امریکی فوج نے ایران کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے، لیکن انہیں یہ یاد رکھناہوگا کہ آبنائے ہرمز کل 33کلومیٹر چوڑا راستہ ہے جس میں سے صرف 3 کلومیٹر ایسا راستہ ہے جہاں سے بحری جہاز گزر سکتے ہیں، اس لیے سمندری اور فضائی اعتبار سے تو ایران کو شکست دینا مشکل ہے اور جب تک امریکی قوم سیکڑوں اور ہزاروں لاشیں اٹھانے کیلئے تیار نہ ہوجائے، اس وقت تک یہ دھمکی کارگر ثابت نہیں ہوسکتی اور جب تک زمینی جنگ نہ ہو، ایران کو شکست دینا ممکن نہیں ۔ پھر بھی اگر امریکی صدر نے یہ کڑوا گھونٹ پی لیا تو ایک اور زہریلا گھونٹ ان کا منتظر ہے کہ اب وہ مڈ ٹرم الیکشن  بھی ہارنے کیلئے تیار ہوجائیں  کیونکہ امریکی قوم ایران کے خلاف جنگ میں خود نہیں کودی تھی بلکہ اس کا سبب اسرائیل بنا تھا اور امریکی قوم اتنی باشعور تو ضرور ہوچکی ہے کہ اَن چاہے آپریشنز میں سپاہیوں کو شہید کروانے والے صدر کو ووٹ کبھی نہیں دیتی۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ قیادت نے امریکہ کی جانب سے داخلی تقسیم یا اختلافات کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت متحد ہے۔ ساتھ ہی سابق امریکی حکام اور سفیروں نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ایران پابندیوں اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تیل کی برآمد کے متبادل راستے تلاش کر سکتا ہے، جس سے امریکی دباؤ کی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔

تشویشناک طور پر خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے، اور جارج بش نامی طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بعد اب امریکہ کے تین بڑے جنگی بحری بیڑے مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔امریکہ میں سیاسی سطح پر بھی ایران کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ ایک درجن سے زائد ڈیموکریٹ اراکین کانگریس نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تقریباً 12 ہزار ایرانی طلبہ اور دیگر افراد کی ملک بدری کو فی الحال روکا جائے، کیونکہ ان کی واپسی پر انہیں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

توانائی کی عالمی منڈی بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں پکڑ دھکڑ اور کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو تیل کی قیمتیں 200 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک ایسے شدید اور تکلیف دہ بحران کا باعث بن سکتی ہیں جسے عالمی برادری نے نہ کبھی دیکھا ہے نہ سنا اور نہ ہی مشرق وسطیٰ  یا مغربی ممالک نے اس بحران سے نمٹنے کی کوئی تیاری کر رکھی ہے۔

Related Posts