زندگی کی قیمت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے، یہاں تک کہ اچھی آمدنی والا طبقہ بھی اب بحران کا احساس کر رہا ہے اور اس کے لیے اپنا گزارہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔نگران حکومت عوام کی ضروریات سے غافل ہے۔ پیٹرول بم گرا کر حالات کو خراب کر نے کی کوشش ہورہی ہے۔ گزشتہ ماہ کے دوران عبوری حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 58 روپے فی لیٹر کا حیران کن اضافہ کیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ چونکہ ڈیزل کا تعلق ٹرانسپورٹ سیکٹر سے ہے، اس لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں جیسے خوراک اور گروسری میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی کی شرح بڑھ جاتی ہے۔
مزید مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے بجلی کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ اوپر پہنچ چکی ہے، بجلی کے بلوں سے عام کو ریلیف نہیں ملااور صارفین کے پاس اپنے واجبات ادا کرنے یا کنکشن منقطع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کا موسم شروع ہونے تک عوام کا ساتھ دینے سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ عوام نے اپنا غصہ بجلی کی افادیت پر نکالا لیکن اب انہیں مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔بجلی کے بحران کے حوالے سے تحریک دھری کی دھری رہ گئی ہے کیونکہ لوگ اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔
حکومت کوئی ریلیف دینے سے قاصر ہے کیونکہ اسے آئی ایم ایف کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے نومبر میں فنڈز کی نئی قسط جاری ہونے کی توقع ہے اور اسے مالیاتی سخت پالیسیوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ شرح سود پہلے ہی 22 فیصد کی ریکارڈ سطح پر ہے اور افراط زر کی شرح 29 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معمولی معاشی بحالی ہوئی ہے لیکن اس کے اثرات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کوئی حل نظر نہ آنے کی وجہ سے لوگوں یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ اجرتیں جمود کا شکار ہیں اور بے روزگاری کا خطرہ زیادہ ہے۔ ایندھن اور بجلی کی قیمت زیادہ تر لوگوں کے مکان کے کرایے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے لیے کام پر جانا مشکل ہو گیا ہے۔ جب لوگ قلیل مدتی حل نکال رہے ہیں، قوم کو معاشی بحالی کے منصوبے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف جمہوری طور پر منتخب حکومت ہی کر سکتی ہے لیکن یہ بھی ایک دور کا خواب لگتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں