یوکرین جنگ کی مخالف روسی خاتون اینکر صدر پیوٹن کیخلاف احتجاج پر گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

یوکرین جنگ کی مخالف روسی خاتون اینکر صدر پیوٹن کیخلاف احتجاج پر گرفتار
یوکرین جنگ کی مخالف روسی خاتون اینکر صدر پیوٹن کیخلاف احتجاج پر گرفتار

ماسکو: روسی حکومت نے یوکرین جنگ کی مخالف روسی اینکر مارینا اوسینیکووا کو روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے خلاف براہِ راست نشریات میں احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق براہِ راست نشریات کے دوران روسی خاتون اینکر کو گرفتار کر لیا گیا۔ مارینا اوسینیکووا کے وکیل نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کے دوران ہی میری مؤکلہ نے لائیو نشریات کے دوران یوکرین پر روسی حملے پر تنقید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:

برطانیہ، مسلمانوں کو امتیازی سلوک کے باعث بیروزگاری کا سامنا

روسی خاتوین اینکر مارینا کے متعلق ان کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بعض سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ مارینا تاحال زیرِ حراست ہیں اور ان کے بارے میں مزید کوئی معلومات نہیں۔ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش تصاویر میں مارینا کی گرفتاری دیکھی جاسکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مارینا کو گرفتار کرنے والے روسی پولیس اہلکار انہیں سفید رنگ کی وین میں بٹھا کر لے جاتے ہیں۔ روسی خاتون اینکر کے وکیل دمتری زاخواتوف نے مارینا کو قید کرنے کے مقام سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

چینل ون (روس) میں بطور ایڈیٹر خدمات سرانجام دینے والی مارینا اوسینیکووا شام کے وقت کی نشریات میں پوسٹر اٹھائے شامل ہوئیں جس پر جنگ نامنظور کے الفاظ تحریر تھے۔ سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں موجود بینر پر مزید سخت الفاظ تحریر کیے گئے۔

حال ہی میں مارینا اوسینیکووا نے ایک مظاہرے کے دوران بچوں کے قتل کی مذمت اور روسی صدر پیوٹن کو قاتل قرار دیا تھا جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر روسی خاتون اینکر نے خود جاری کیں۔ واضح رہے کہ روس میں صدر کے خلاف بغیر ثبوت الزامات پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔

Related Posts