گاڑی حوالگی کیس، اس میں منفرد کیا ہے؟سپریم کورٹ میں کسٹم پر 50 ہزار جرمانہ عائد

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گاڑی حوالگی کیس میں محکمۂ کسٹم پر غیر ضروری مقدمے اور وقت ضائع کرنے پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا ہے جبکہ ڈی جی کسٹم کی سرزنش بھی کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ میں نان کسٹم پیڈ گاڑی کی مالک کو حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے پاکستان کسٹمز کی مقدمہ واپس لینے کی استدعا مسترد جبکہ حوالگی کے خلاف کسٹم کی اپیل خارج کردی۔ 

یہ بھی پڑھیں:

افغان وزیر ریلوے پاکستان پہنچ گئے، ٹرین سروس پر تبادلہ خیال

غیر ضروری مقدمہ دائر کرکے عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے پر سپریم کورٹ نے محکمۂ کسٹمز پر 50ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈی جی کسٹمز سے استفسار کیا کہ کیا آپ قانون سے بالاتر ہیں؟َ

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ آپ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کر رہے ہیں؟ جبکہ 3 عدالتوں نے حکم دیا کہ آپ گاڑی مالک کے حوالے کردیں جبکہ 5سال سے آپ نے شہری کی گاڑی پکڑ کر بند کر رکھی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سال سے وئیر ہاؤس میں کھڑی گاڑی خراب ہوگئی۔ کیا آپ مالک کا نقصان پورا کریں گے؟ ڈی جی کسٹم نے کہا کہ یہ گاڑی حوالگی کا بہت منفرد کیس ہے جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے برہمی کا اظہار کیا۔

عدالتِ عظمیٰ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی حوالگی میں کیا منفرد ہے؟ کلیکٹر لکھ رہا ہے کہ مالک نے ٹیکس اور ڈیوٹیز ادا کردیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ 97 ماڈل کی گاڑی کی قیمت کیا ہوگی؟

ڈی جی کسٹم نے کہا کہ قبضے میں لی گئی گاڑی کی مالیت 20 سے 25 لاکھ روپے ہوگی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ آپ بارڈر کو محفوظ کیوں نہیں بناتے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑی پاکستان میں نہ آئے؟

بعد ازاں عدالت نے کسٹم پر غیر ضروری مقدمہ دائر کرنے کے الزام میں 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ لوگ اور سامان بلا روک ٹوک آ جا رہے ہوتے ہیں۔ کیا کسٹم کے لوگ تفریح کرتے ہیں؟

 

Related Posts