سیزنل مسلمان یا سچا بندۂ مومن؟

تازہ ترین

تازہ ترین

رمضان وہ مہینہ ہے جو خوش نصیبوں کو ملتا ہے۔ اس میں اگر انسان چاہے تو اپنی زندگی اور قسمت بدل سکتا ہے۔ رمضان کا مہینہ ہمیں آگے کی زندگی کو آسان کرنے کے طریقے بتاتا ہے۔ مگر آج کا مسلمان سیزنل مسلمان ہوتا ہے۔ سیزن کے مطابق رمضان میں باتیں اسلام کی کرتا ہے، مگر ان باتوں پر عمل نہیں کرتا۔ بہت سے ٹی وی چینلز اور اخبارات کے کالم بہت ہی خوبصورت مذہبی باتیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں ، مگر اس کا فائدہ عملاً بہت کم لوگ اٹھاتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک انسان اپنی نیت دل سے نہ کرلے ، اس کا کوئی بھی عمل محض دکھاوا ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں دلوں میں میل ہوتے ہیں ۔ زبان پر تلخ الفاظ اور غصے سے بھرے خیالات ہمارے ذہنوں میں گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم جب حلال و حرام کی باتیں کرتے ہیں تو ہمارا دھیان کھانے پینے کی چیزوں پر جاتا ہے مگر حلال و حرام کا آغاز نگاہوں سے ہوتا ہے اور پھر ارادے سے ہوتا ہے۔ ہم یہ کبھی نہیں سوچتے کہ جو پیسے ہم کما رہے ہیں، وہ حلال ہیں یا حرام؟ پھر بھی ہم حرام کے پیسوں سے حلال کھانا خریدنے نکل چلتے ہیں اور جو لوگ نیک اعمال کرتے ہیں، وہ بھی بعض اوقات یہ بھو ل جاتے ہیں کہ غصہ حرام ہے اور وہ نیک لوگ بھی اس حرام غصے کو ختم نہیں کرتے ۔

رمضان کے مہینے میں سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ انسان سے کہتا ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے انسان کا احساس کرو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ زکوٰۃ دیا کرو، تاکہ آپ کی دی ہوئی زکوٰۃ سے دوسروں کی زندگی بہتر ہوسکے۔ اب اس زکوٰۃ کو حاصل کرنے کیلئے مختلف ادارے اپنی پوری کوشش کرتے ہیں اور اسی کوشش کو کامیاب بنانے کیلئے کسی غریب کی تصویر لگا کر اس پر چندہ اکٹھا کرتے ہیں۔ یا کسی غریب کو افطاری یا سحری کرا کر سڑکوں پر بٹھا کر اپنی واہ واہ کرواتے ہیں۔ اسلام میں ہے کہ لوگوں کی عزت کر، اس طرح سے جس طرح سے تم اپنی عزت کروانا چاہتے ہو اور وہ کھلاؤ جو خود کھاتے ہو ۔ وہ پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔ مگر یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس دنیا میں تو شہرت حاصل کرلی، اپنے آپ کو نیک منوا کر ، ہر انسان کہتا ہے کہ وہ نیک ہے، تو دنیا میں برائی کیوں ہورہی ہے؟

رمضان میں قرآن شریف کو اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اتارا تھا تاکہ ہم اسے پڑھیں ، سمجھیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنائیں۔ مگر ہم نے اس قرآن کو کپڑوں میں بند کرکے اونچی الماریوں کی زینت بنا دیا۔ اور جب پڑھا تو اسے سمجھا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی ہماری مادری زبان نہیں اور نہ ہی ہم اسے اس طرح سے سیکھتے ہیں جس طرح سے کہا گیا ہے کہ پڑھو ، مگر سمجھ کر پڑھو۔ ہمارے جو لوگ ہیں، قرآن پڑھتے ہیں مگر بیشتر لوگ اسے سمجھتے نہیں۔ جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نعمت ہے جو تمام دنیا کے اندر مختلف زمانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ہے، صرف اس لیے تاکہ لوگ اسے پڑھ کر سمجھیں اور اپنی زندگیوں کو بدلیں۔

آج دنیا بھر میں جو مایوسی چھا گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پر اعتقاد نہیں ہے مگر زبانی طورپر کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ پر اعتقاد ہے۔ دعائیں کبھی زبان سے پوری نہیں ہوتیں۔ دعا وہی پوری ہوتی ہے جو دل سے نکلی ہوئی ہو۔ دل سے نکلی ہوئی دعائیں سو فیصد قبول ہوتی ہیں۔ ہم نے قرآن میں بیان کیے گئے واقعات سے کبھی سیکھا نہیں جبکہ یہ واقعات اس لیے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے اور انہیں قرآن میں لکھ دیا تاکہ ہم آخرت تک ان سے رہنمائی حاصل کریں۔ مایوسی کی سزا تو اللہ نے پیغمبر کو بھی دی۔ حضرت یونس علیہ السلام جب اپنی قوم سے تنگ آگئے اور انہیں چھو ڑ کر نکل آئے تو اللہ سخت ناراض ہوئے اور ان کی کشتی کو طوفان نے گھیر لیا۔

اس وقت حضرت یونس علیہ السلام کو یہ علم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اے یونس ! تو مایوس کیوں ہوا؟ اور یونس، جب تک ہم نے حکم نہیں دیا، تو آپ نے اپنی قوم کو کیوں چھوڑا؟ یہی وجہ تھی کہ یونس علیہ السلام کو ایک مچھلی نگل گئی۔ جہاں پر حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ سے معافی مانگی اور اللہ نے انہیں معاف کرکے اس مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا۔ اس سارے واقعے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی ناامید نہیں ہونا ہے اور نیکی ک کام مسلسل کرنا چاہئے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی ہمیں سیکھنا چاہئے کہ توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور ہمیں ہمیشہ توبہ کرنی چاہئے اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کردیتا ہے، یہ یقین رکھنا چاہئے کہ مایوسی گناہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی سنتا ہے ، چاہے وہ گونگا ہی کیوں نہ ہو، وہ گونگے کی بھی سنتا ہے۔

اس رمضان میں قرآن شریف کو ترجمے کے ساتھ پڑھیں اور اپنی زندگی کو بدلیں۔ یہ نہ کہیں کہ آج کی دنیا میں اور پہلے کی دنیا میں بہت فرق ہے۔ آج کی دنیا اور پہلے کی دنیا اور آنے والی دنیا کیلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی نعمت سے ہمیں نوازا ہے اور جو قرآن کو سمجھ کر پڑھے گا، وہ اس دنیا ہی میں نہیں، بلکہ آخرت میں بھی کامیاب ہوگا۔

Related Posts