کراچی: سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کاغذ کا استعمال 27 فیصد کم کردیا ہے جس کے نتیجے میں 38 درختوں کو کٹاؤ سے بچا لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایس ای سی پی نے کاروباری شعبے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ماحول دوست اقدامات اٹھائے جائیں، ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ دیتے ہوئے کاغذ کے استعمال کو کم سے کم کیاجانا چاہئے۔ گزشتہ برس کاغذ کے استعمال میں 25فیصد کمی لائی گئی۔
پہلی ماحول دوست ریفریجریٹڈ فریٹ ٹرین کا لاہور سے کراچی کامیاب سفر
ایس ای سی پی نے روزمرہ معمولات اور داخلی پراسیس کو ڈیجیٹلائز کیا۔ مجموعی طور پر اسٹیشنری کا استعمال 55فیصد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ کارپوریٹ سیکٹر کو دفتری امور کیلئے کاغذ کی جگہ کمپیوٹر کے استعمال کی ہدایت کی گئی۔
کمپنی انکارپوریشن اور رجسٹریشن کے سرٹیفکیٹس، کئی ریگولیٹری عوامل کو آن لائن کیا گیا۔ کمپنیوں کی حقیقی ملکیت کا ڈکلریشن فارم 45، لمیٹیڈ لائبلٹی نوٹیفکیشن اور ٹریکنگ، شیئر ہولڈرز کی فہرست سمیت دیگر عوامل ڈیجیٹلائز کیے گئے۔
اس کے علاوہ پراویڈنٹ فنڈ، گریجوئٹی فنڈ، ہاؤس بلڈنگ فنانس، ریکروٹمنٹ ماڈیول اور دیگر عوامل بھی آن لائن کیے گئے ہیں۔ اسٹیشنری کا مجموعی استعمال 55 فیصد جبکہ کاغذ کا 27 فیصد تک کم کر لیا گیا ہے۔ کاغذ کا استعمال کم کرکے درختوں کو بچایا گیا۔
اقوامِ متحدہ کی گلوبل فاریسٹ ریسورسز اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق ایک ٹن کاغذ کیلئے 24 درختوں کو کاٹا جاتا ہے۔ 2021 میں ایس ای سی پی نے کم و بیش 38 درختوں کو کٹاؤ سے بچالیا۔ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد گرین پاکستان اقدام کو فروغ دینا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








