ڈنمارک کے آلبورگ ایئرپورٹ کو غیر مجاز ڈرونز کی موجودگی کے باعث بند کردیا گیا ہے جبکہ ملک کے دیگر چھوٹے ایئرپورٹس پر بھی ڈرونز دیکھے گئے تاہم انہیں بند نہیں کیا گیا اس واقعے کو ڈنمارک کی حکومت نے ایک منظم اور پیشہ ورانہ ہائبرڈ حملہ قرار دیا ہے جس کا مقصد خوف اور انتشار پھیلانا ہے۔
آلبورگ ایئرپورٹ جو تجارتی پروازوں کے ساتھ ساتھ فوجی آپریشنز کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس بندش سے چند دن قبل کوپن ہیگن کا مرکزی ایئرپورٹ بھی عارضی طور پر بند ہو چکا تھا۔
حالیہ دنوں میں ڈرونز اور ہوائی جہازوں کے حوالے سے استونیا، پولینڈ اور رومانیہ کی فضائی حدود میں بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں جس کی وجہ سے روس پر نیٹو کے دفاعی نظام کو جانچنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیٹو رکن ممالک کو کہا ہے کہ وہ روسی ہوائی جہازوں کو اپنے فضائی حدود میں گرا دیں۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے لڑاکا طیاروں کو گرانے کا اختیار زیر غور ہے۔
ڈنمارک کی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ڈرونز کے پیچھے موجود افراد کی تحقیقات کر رہی ہے اور ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ کوئی شرارتی حرکت ہے یا کوئی منصوبہ بند حملہ ہے۔
دفاعی وزیر ٹرولز لند پولسن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اتنے منظم اور بیک وقت کئی جگہوں پر ہونے والے واقعات یقینی طور پر پیشہ ورانہ کارروائی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اسے ایک ہائبرڈ حملہ قرار دیا جو مختلف اقسام کے ڈرونز کے ذریعے خوف اور انتشار پھیلانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
De uidentificerede droner som blev observeret i det nordjyske, befinder sig ikke længere over luftrummet ved Aalborg Lufthavn. En intens efterforskning er gået i gang, og politiet beder alle med oplysninger i sagen henvende sig på telefon 114. #politidk https://t.co/sU3Azw8amD
— Nordjyllands Politi (@NjylPoliti) September 25, 2025
ڈنمارک کے وزیر انصاف پیٹر ہملگارڈ نے بھی کہا کہ ان فضائی پروازوں کا مقصد عوام میں خوف اور انتشار پھیلانا ہے۔
اگرچہ پولسن نے کہا کہ ڈنمارک کو فی الحال کوئی براہِ راست فوجی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا اور نیٹو کے آرٹیکل 4 کے تحت مشاورت کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا لیکن پولینڈ اور استونیا جیسی مثالوں سے نیٹو ممالک اپنی فضائی حدود کے دفاع میں سختی کر رہے ہیں۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹ کے ساتھ بات چیت کی ہے اور دونوں نے ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

آلبورگ ایئرپورٹ کے قریب شمالی یوت لینڈ کے علاقے میں کئی ڈرونز دیکھے گئے جو کوپن ہیگن ایئرپورٹ پر پیر کے روز ہونے والی سرگرمیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس ایئرپورٹ کی بندش سے فوجی آپریشنز بھی متاثر ہوئے کیونکہ یہ ایک اہم فوجی اڈہ بھی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ڈرونز کے پیچھے کون ہے اور ان کا مقصد کیا ہے تاہم ممکن ہو تو انہیں نیچے گرایا جائے گا۔ اس ضمن میں فوج بھی تحقیقات میں مدد کر رہی ہے۔
ڈنمارک کے شمالی علاقوں میں ایسبیئرگ، سونڈربورگ اور سکریڈسٹرپ ایئرپورٹس کے قریب بھی ڈرونز دیکھے گئے۔ سکریڈسٹرپ ایئر بیس دانمارک کے ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کا مرکز ہے۔
پولیس نے ڈرونز کی اقسام اور ان کے پیچھے والوں کے بارے میں ابھی کوئی وضاحت نہیں کی اور کہا کہ یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ آیا یہ وہی ڈرونز تھے جو کوپن ہیگن میں دیکھے گئے تھے یا نہیں۔
حکام کے مطابق کوپن ہیگن میں ڈرون واقعہ دانمارک کی اہم انفراسٹرکچر پر ہونے والا اب تک کا سب سے سنگین حملہ ہے اور اسے روسی ڈرونز کی یورپ بھر میں مشتبہ سرگرمیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
حادثہ یا دہشتگردی؟ ایران میں دھماکے کے پس پردہ راز تلاش کیے جا رہے ہیں
ناروے نے بھی اوسلو ایئرپورٹ کی فضائی حدود کو تین گھنٹے کے لیے بند کیا تھا جب وہاں بھی ڈرون دیکھا گیا تھا۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن نے کہا کہ وہ اس بات کو رد نہیں کر سکتیں کہ روس اس واقعے کے پیچھے ہو سکتا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین نے کہا ہے کہ یہ واضح ہے کہ ہم اپنی سرحدوں پر مسلسل چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں اور یورپ ان خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔
روسی کرملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ روسی ہوائی جہاز بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہیں۔
ارسلہ وان ڈیر لین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر کوئی لڑاکا طیارہ نیٹو کے فضائی حدود میں داخل ہو تو وارننگ دینے کے بعد اس کو مار گرایا جا سکتا ہے۔
اسی ماہ پولینڈ نے چار ایئرپورٹس بشمول وارسا کا ایئرپورٹ بند کر دیا تھا کیونکہ روسی ڈرونز نے بار بار پولش فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔
نیٹو کے تمام ارکان نے اپنی سرحدوں کے دفاع کو مضبوط کرنے اور اس واقعے کے بعد اتحاد کو مزید مستحکم کرنے کا عزم کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








