سابق وزیر اعظم کی بیٹی پر سنگین الزامات؛ عالمی ادارہ صحت کی سخت کارروائی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے سنگین بدعنوانی اور جعلسازی کے الزامات کے پیش نظر صائمہ واجد سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی بیٹی اور ڈبلیو ایچ او کے جنوب مشرقی ایشیا ریجن کی ڈائریکٹر کو غیر معینہ مدت کے لیے رخصت پر بھیج دیا ہے۔

غیر ملکی جریدے ہیلتھ پالیسی واچ کی رپورٹ کے مطابق، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریسس نے یہ فیصلہ 11 جون سے نافذ کرتے ہوئے ایک داخلی ای میل کے ذریعے عملے کو آگاہ کیا۔ ان کی غیر موجودگی میں، ڈبلیو ایچ او کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر کیتھرینا بوہمے کو جنوبی ایشیائی دفتر (SEARO) کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب بنگلہ دیش کی اینٹی کرپشن کمیشن (ACC) نے صائمہ واجد پر اپنے عہدے کے حصول کے لیے والدہ کا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے اور تعلیمی کوائف میں جعلسازی کا الزام عائد کیا۔

کمیشن کے مطابق، صائمہ واجد نے WHO کی نامزدگی کے دوران اپنی تعلیمی اہلیت کو غلط انداز میں پیش کیا جو بنگلہ دیشی فوجداری قانون کی دفعات 468 اور 471 (دھوکادہی اور جعلی دستاویزات کے استعمال) کے زمرے میں آتا ہے۔

الزامات میں مزید کہا گیا ہے کہ صائمہ واجد نے بنگابندھو شیخ مجیب میڈیکل یونیورسٹی میں ایک اعزازی عہدے کا دعویٰ بھی کیا، جس کی یونیورسٹی انتظامیہ نے عوامی طور پر تردید کر دی ہے۔

اینٹی کرپشن کمیشن کے مطابق، صائمہ واجد پر اپنی والدہ کے دور حکومت میں فنڈز میں خرد برد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا بھی الزام ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے ’سچونا فاؤنڈیشن‘ کے تحت مختلف بینکوں سے تقریباً 28 لاکھ ڈالر حاصل کیے، جو کہ دھوکہ دہی (دفعہ 420) اور اختیارات کے غلط استعمال (انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2)) کے زمرے میں آتا ہے۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت، جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں، نے WHO کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

شفیق الاسلام، جو کہ حکومت کے ترجمان ہیں، نے کہا کہ ہم ڈبلیو ایچ او کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ سائما واجد کو سنگین الزامات کی تحقیقات کے دوران غیر معینہ مدت کے لیے رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتساب کی طرف ایک پہلا قدم ہے لیکن ہم اس معاملے کا مستقل حل چاہتے ہیں، جس میں سائما واجد کو عہدے سے ہٹایا جائے، ان کے مراعات ختم کی جائیں، اور اقوام متحدہ کے ادارے کا اعتماد بحال کیا جائے۔

Related Posts