قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین آفریدی نے وسیم اکرم اور وقار یونس دور اور آج کے دور میں بڑا فرق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کے عظیم کھلاڑیوں پر کام کا اتنا بوجھ نہیں ہوا کرتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ کو دئیے گئے انٹرویو میں فاسٹ بولر شاہین آفریدی نے جدید کھیل میں ورک لوڈ مینجمنٹ کے مسائل پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم اور وقار یونس پر کام کا اتنا بوجھ نہیں تھا جتنا آج کے کھلاڑیوں پر ہے۔
انٹرویو کے دوران شاہین آفریدی نے کہا کہ ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو وسیم اکرم اور وقار یونس پر آج کے دور کے کھلاڑیوں کی طرح کام کا بوجھ نہیں تھا۔ کسی بھی کھلاڑی کو ذہنی طور پر تندرست اور مضبوط ہونا پڑتا ہے جس کا انحصار اس کی ذہنی صلاحیت پر ہے۔
فاسٹ بولر شاہین آفریدی نے کہا کہ کھلاڑی کی ذہنی صلاحیت ہی یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ وہ کام کے بوجھ سے پیدا ہونے والے مسائل پر کس ردِ عمل کا اظہار کرتا ہے۔ احمقانہ ردِ عمل کے اظہار کی صورت میں اپنے جسم اور تکنیک کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ جب ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جاتی ہے تو اس میں تھوڑا وقت لگ جاتا ہے۔ اپنی حالیہ انجری پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک چھوٹی سی مدت ہے جس میں مجھے پاکستان کرکٹ بورد اور آس پاس کے ساتھیوں سے تھوڑا تعاون درکار ہوگا، کرکٹ کے تمام فارمیٹس کو انجوائے کرنا چاہئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








