سندھ ہائیکورٹ کا لاپتہ افراد پر تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم، نوٹسز جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

سندھ ہائیکورٹ 3شہریوں کو بازیاب نہ کرانے پر ڈی ایس پی سکھن پر برہم
سندھ ہائیکورٹ 3شہریوں کو بازیاب نہ کرانے پر ڈی ایس پی سکھن پر برہم

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران معاملے پرتحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کونوٹسز جاری کردئیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مختلف علاقوں سے لاپتہ شہریوں کی بازیابی کیلئے دی گئی درخواستوں کی سماعت کی۔ وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ محمد علی صدیق گھر پہنچ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 

بلزپر دستخط نہ کرنیکا بیان پارٹی دباؤ پر دیا، صدر کی مبینہ گفتگو سامنے آگئی

وکلا کے بیان کے مطابق محمد علی کو عزیز آباد سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ایک لاپتہ شہری کے بھائی کا کہنا تھا کہ سید ساجد علی کو یکم اگست کو کورنگی سے غائب کیا گیا۔ بیس بائیس دن سے واپس نہیں آسکا۔ رکشہ چلاتا ہوں۔ ایف آئی آر تک درج نہیں ہوسکی۔

ایک اور لاپتہ شہری کی اہلیہ نے کہا کہ عمر فاروق نیو کراچی سے 4اگست کو لاپتہ ہوا۔ پولیس اور کوئی اور ادارہ اس کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کررہا۔ سماعت کے دوران بتایا گیا کہ گلشن اقبال سے حراست میں لیے گئے رضوان اور وسیع اللہ سمیت 4شہریوں کا مقدمہ درج ہوگیا ہے۔

بعد ازاں ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ رضوان اور وسیع اللہ کی بازیابی کیلئے مؤثر تحقیقات کی جائیں۔ سیکریٹری داخلہ جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔ متعلقہ حکام بشمول آئی جی سندھ اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا گیا ہے۔ 

Related Posts