افغانستان میں طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر جاری مظالم ایک بار پھر سرخیاں بن گئے جب ایک نوجوان خاتون کو صرف ایک طالبان کمانڈر کی شادی کی درخواست مسترد کرنے کے الزام میں عوامی طور پر بے رحمانہ کوڑے مارے گئے۔
یہ واقعہ غور صوبے میں پیش آیا جہاں درجنوں طالبان ارکان نے خاتون کو سڑک پر گھیر کر اسے سخت سزائیں دیں جبکہ ارد گرد جمع ہجوم خاموشی سے تماشہ دیکھتا رہا۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے جو طالبان کی جانب سے خواتین کے خلاف منظم ظلم کی ایک اور مثال ہے۔
Hear her cries. Her only “crime” was saying no to a Taliban commander’s marriage proposal and that refusal cost her everything. She was mercilessly lashed in public, a chilling reminder of how far the Taliban’s cruelty toward women has gone.
Their brutality has long crossed… pic.twitter.com/gPiz1v50dk
— Hafsah Malik (@OGMuseDoree1) October 30, 2025
ایک سرکاری بیان میں طالبان نے اسے اخلاقی جرائم کی سزا قرار دیا مگر انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے واضح صنفی بنیاد پر تشدد قرار دے رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی سزائیں انسانیت کے خلاف جرائم کی حیثیت اختیار کر سکتی ہیں کیونکہ یہ خواتین کی آزادیِ اظہار اور ذاتی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات؛ انکار کی سزا موت
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون کو ہاتھ باندھے ایک پولیس وین کے قریب کھڑا کیا گیا جبکہ طالبان ارکان نے باری باری اسے کوڑے مارے۔ خاتون کی چیخیں اور مدد کی اپیلوں نے ارد گرد موجود مردوں کو بھی ہلا دیا مگر کوئی آگے بڑھا نہ۔
ذرائع کے مطابق یہ خاتون ایک عام گھریلو خاتون تھی جسے ایک طالبان کمانڈر نے شادی کی پیشکش کی اور انکار پر اسے بدکاری کا الزام لگا دیا گیا۔ طالبان کی اخلاقی پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی اور اسے منظر عام پر سزا دی۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2024 اور 2025 میں طالبان نے خواتین کو ناکافی حجاب، بغیر محرم کے گھر سے نکلنے یا اخلاقی خلاف ورزی جیسے الزامات میں کئی بار کوڑے مارے ہیں۔ غور صوبے میں رواں ماہ ہی دو خواتین سمیت چار افراد کو اسی طرح سزا دی گئی تھی۔
طالبان رجیم کے مظالم: خواتین کا قتلِ عام
طالبان کے اقتدار سنبھالنے (اگست 2021) کے بعد سے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں ایک جنسی بنیاد پر ظلم کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ عالمی تنظیمیں جیسے ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان نے خواتین کو تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی سے معزول کر دیا ہے جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








