شدت پسند رہنما پرمود نے مسلمان لڑکیوں کیخلاف اشتعال انگیز بیان کیوں دیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کرناٹک: بھارتی شدت پسند تنظیم کے سربراہ پرمود متالک نے مسلمان لڑکیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسلمان لو جہاد میں ایک ہندو لڑکی پر وار کریں تو ہندو نوجوان 10 لڑکیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شری رام سینا کے چیف پرمود متالک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسلم لڑکیوں کو پیار میں پھنسانا ہوگا۔ ایک ہندو لڑکی کے بدلے 10 کو پھانسو۔ ایسا کرنے والے ہندوؤں کی ملازمت اور سکیورٹی ہم سنبھالیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

شام اور ترکی میں زلزلہ، 3 افراد جاں بحق، 600سے زائد زخمی

بیان میں پرمود متالک نے کہا کہ ہماری ہندو لڑکیوں کو ٹھگ کر لو جہاد کیا جارہا ہے۔ ہماری روایات میں شامل ہے کہ اپنی حفاظت کیلئے ہر کسی کے گھر میں تلوار ہونی چاہئے۔ پولیس کچھ بھی کہے تو کہنا کہ ماں درگاکے ہاتھ میں بھی تلوار ہے۔

دُرگا ماں کون؟

ہندو مت میں درگا دیوی کی پورے بھارت اور دنیا کے دیگر ممالک میں پوجا کی جاتی ہے۔ اس خاتون کو خدا ماننے والے ہندو دُرگا کیلئے دُرگا ماں کے علاوہ پاروتی، شکتی اور دیگر بہت سے نام استعمال کرتے ہیں۔

عموماً درگا دیوی کو خوبصورتی اور شدید جنگ و جدل کی دیوی سمجھا جاتا ہے جس کے 8 ہاتھ ہیں اور اس خاتون نے تلوار کے علاوہ دیگر متعدد ہتھیار بھی اٹھا رکھے ہیں۔ ہندو مت کے پیروکار درگا دیوی کو خدا سے کم نہیں سمجھتے۔

لو جہاد کیا ہے؟

لو جہاد یعنی محبت کے نام پر جہاد وہ نیا شوشہ ہے جو بھارت کے شدت پسند ہندو مسلمانوں کو گجرات اور دہلی کی طرز پر نئے فسادات کی جانب لے کر جانے کیلئے چھوڑ رہے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ مسلمان ہندو لڑکیوں کو پھنسا کر جہاد کرتے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک خاتون کو قتل کرکے اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے مختلف مقامات پر پھینکنے والا ایک ملزم مسلمان نکلا، تاہم ایسے ہی دیگر جرائم کے ملزمان ہندو بھی ہیں، جس پر شدت پسندوں نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔

ماضی کی اشتعال انگیزی

شدت پسند تنظیم شری رام سینا کرناٹک چیپٹر کے سربراہ پرمود متالک کے خلاف ماضی میں بھی اشتعال انگیز بیان بازی کے باعث 45 سے زائد مقدمات درج ہیں تاہم ایسی کوئی ایک کارروائی بھی نہیں ہوئی جس سے بیان بازی کا یہ سلسلہ تھم سکتا۔

Related Posts