بھارت نے میرے قتل کی سازش کی، سکھ رہنما کے امریکا میں دائر مقدمے میں اہم انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

سکھ رہنما
(فوٹو: نیوز 18 / بھارتی میڈیا)

واشنگٹن: امریکا میں سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارت کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے جس میں سکھ رہنما کا کہنا ہے کہ بھارت نے میرے قتل کی سازش کی۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارت کے خلاف مقدمہ امریکی فیڈرل ڈسٹرکٹ کورڈ میں دائر کیا۔ مدعی مقدمہ نے مقدمے کا اعلان وکلا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اور بتایا کہ مقدمے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کو نامزد کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران گر پتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ مقدمے میں قتل کی سازش پر بھارتی خفیہ ایجنسی راہ کے اجیت ڈوول، سمنت گوئل، وکرم یادیو اور نکھل گپتا کو نامزد کیا گیا ہے۔ مودی حکومت اور را نے امریکی سرزمین پر ہی امریکی شہر کو قتل کرنے کی غیر معمولی سازش کی تھی۔

سکھ فار جسٹس کے رہنما نے کہا کہ مودی کو رپورٹ کرنے والے اہلکار نکھل گپتا کو قاتلوں کی خدمات حاصل کرنے کا کہہ چکے تھے، قتل کی سازش نکھل گپتا کے کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے پر بے نقاب ہوگئی کیونکہ کرائے کا قاتل فیڈرل خفیہ ایجنٹ نکلا۔

گر پتونت سنگھ پنوں نے مقدمے کے متن میں کہا کہ بھارت سکھوں کے حقِ خود ارادیت، مذہبی اقلیتوں پر ظلم اور انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھانے پر مجھے خاموش کرانا چاہتا تھا۔ مجھے اسی وقت قتل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا جب میرے قریبی ساتھی ہردیپ سنگھ کو کینیڈا میں قتل کیا گیا۔

دوسری جانب قتل کی سازش پر نکھل گپتا پر فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔ کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے متعلق الزام میں 4 سکھوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہےکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کہہ چکے ہیں کہ ہم دشمن کو اس کے گھر میں گھس کر مار سکتے ہیں۔

Related Posts