دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر اور لاکھوں کی جان لینے والے کورونا وائرس کے نئے کورونا ایکس ای سی ویرئینٹ نے کچھ ہی عرصہ قبل پنجے گاڑنا شروع کردئیے ہیں۔
کورونا ایکس ای سی ویرئینٹ یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سب سے پہلے اس کی شناخت رواں برس جون کے دوران ہوئی اور پھر یہ وائرس دنیا کے 13 سے زائد ممالک میں پھیل گیا۔ دراصل ایکس ای سی کورونا کا ایک ایسا ویرئینٹ ہے جو 2 سب ویرئینٹس کا امتزاج کہا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا ایکس ای سی دراصل کورونا کے اومی کرون ویرئینٹ کے سب ویرئینٹس کے ایس 1 اعشاریہ 1 اور کے پی 3 اعشاریہ 3 کا مرکب ہے۔ رپورٹس کے مطابق کورونا کا کے ایس 1 اعشاریہ 1 ویرئینٹ بھی ابھی ختم نہیں ہوا اور اس کے مریض بھی بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب کورونا ایکس ای سی جون سے لے کر اب تک کم و بیش ڈھائی ماہ میں جتنی تیزی سے پھیلا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ جن ممالک تک یہ نہیں پہنچا، ان تک پہنچنے میں اسے کتنی اور دیر لگ سکتی ہے اگر اس کی یہی رفتار جاری رہی؟ ایسے میں ویکسین کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
برطانویہ نیشنل ہیلتھ سروس کورونا کے زیادہ خطرے سے دوچار مریضوں کیلئے بوسٹر شاٹس کی پیشکش کرتا ہے۔ کورونا کے ڈیٹا اینالسٹ مائیک ہنی نے رپورٹ کیا کہ ایکس ای سی ویرئینٹ خصوصاً ڈنمارک اور جرمنی میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی علامات بھی کورونا سے مشابہ ہیں۔
مریض کو بخار ہوجاتا ہے، گلا خراب رہتا ہے، کھانسی، جسمانی درد، تھکان کا احساس اور بھوک مر جانا کورونا ایکس ای سی کی اہم علامات سمجھی جاتی ہیں۔زیادہ تر لوگ کورونا ایکس ای سی سے چند ہی ہفتوں میں صحتیاب ہوجاتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو اس میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔
کتنے ممالک میں کتنے مریض؟
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا ایکس ای سی ویرئینٹ دنیا بھر کے 11 جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق 13 ممالک میں پھیلا ہے جو یورپ میں ہیں، تاہم مریضوں کی تعداد یا وائرس سے ہونے والی اموات کی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آسکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








