کراچی: سندھ حکومت نے کراچی میں 23 اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے سیکیورٹی اہلکار فراہم کرنے سے انکار کردیا، یہ بات ایک نجی ٹی وی چینل نے جمعرات کو رپورٹ کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کو لکھے گئے خط میں، صوبائی حکومت نے حفاظتی وسائل فراہم کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہے۔
سندھ حکومت نے کہا کہ ”ہم 23 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے مطلوبہ حفاظتی وسائل فراہم کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہے،”۔
تاہم صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات دو مرحلوں میں ہونے کی صورت میں سیکیورٹی فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔
4 اکتوبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بندرگاہی شہر میں بلدیاتی انتخابات کو تین ماہ کے لیے کرانے کی سندھ حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیاتھا۔
انکار کے باوجود صوبائی حکومت نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر کراچی میں آئندہ تین ماہ کے لیے انتخابات میں تاخیر کا مطالبہ کیا ہے۔
صوبائی حکومت نے مزید کہا کہ ”اگر تین ماہ میں حالات معمول پر آتے ہیں تو بلدیاتی انتخابات کے لیے سیکیورٹی کے وسائل دستیاب ہوسکتے ہیں۔”
ایک روز قبل سندھ کے وزیر محنت اور انسانی وسائل سعید غنی نے تجویز پیش کی تھی کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات دو مرحلوں میں کرائے جائیں، صوبائی حکومت کے پاس دستیاب محدود وسائل کے پیش نظر انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔
صوبائی اسمبلی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر منحصر ہے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کا بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں اہم ویڈیو پیغام
تاہم، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے شہر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کی تجویز کی مخالفت کی، اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ 23 اکتوبر کو شہر بھر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








