سندھ پولیس کراچی میں اسکولوں اور ریسٹورنٹس میں منشیات سپلائی کے معاملے پر حرکت میں آگئی ہے۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے اسکولوں اور ریسٹورنٹس میں منشیات اور ممنوعہ ادویات سپلائی کی جارہی ہیں۔ آئی جی سندھ کو خفیہ رپورٹ موصول ہوگئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نو عمر طلبہ وطالبات کو منشیات کا زہر پلایا جارہا ہے۔
مسلم علماء اور سکھ رہنماؤں کے قتل میں ایک ہی گروپ ملوث
رپورٹ کے مطابق نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کو منشیات اور مصنوعی ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے منشیات سپلائی کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کیلئے احکامات جاری کردئیے۔
سندھ پولیس کی اسپیشل برانچ کو حکم دیا گیا ہے کہ ایسے اسکول اور ریسٹورنٹس کی سخت نگرانی کی جائے جہاں رپورٹ کے مطابق منشیات یا ممنوعہ ادویات سپلائی کی جاتی ہوں۔ ایڈیشنل آئی جی منشیات فروشوں کی نشاندہی یقینی بنائیں۔
آئی جی سندھ کے احکامات کے مطابق زونل ڈی آئی جیز اور اسپیشل برانچ منشیات فروشوں کی سرکوبی کیلئے سخت اقدامات اٹھائیں گے۔ کوآرڈی نیشن مکینزم قائم کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئیں جس کے تحت ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔
خفیہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد آئی جی سندھ کی جانب سے جاری باضابطہ مراسلے میں منشیات فروشوں اور ممنوعہ ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا گیا۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس اقدام سے منشیات فروشوں کو لگام دینے میں مدد ملے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








