سموگ کا مسئلہ کوئی نیا نہیں خاص طور پر جب آپ پنجاب میں رہ رہے ہوں۔ لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں پنجاب حکومت کو سموگ ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکم دیا ہے اور شدید سردی کے موسم کی لپیٹ میں آنے سے قبل احتیاطی تدابیر کے لیے اجلاس بلانے کا حکم دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب کے سیکرٹری برائے ماحولیات نے سموگ کے خاتمے کے لیے اجتماعی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سردیوں کے موسم میں سموگ کا مسئلہ خاصا اہم ہوتا ہے۔ پنجاب کے بیشتر شہروں کا ایئر کوالٹی انڈیکس اپنے خراب معیار کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہے اور اس میں سموگ اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سموگ میں طویل عرصے تک رہنے سے صحت کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جن میں دمہ، پھیپھڑوں کو نقصان، دل کے مسائل، فالج وغیرہ شامل ہیں۔ پہلے اندازوں کے مطابق تقریباً 128,000 پاکستانی سالانہ فضائی آلودگی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بلین ٹری سونامی پروجیکٹ جیسے منصوبوں کے باوجود، زیادہ تر شہروں میں کاربن کے اخراج کو جذب کرنے کے لیے مناسب جنگلات کی کمی ہے۔
پرائیویٹ گاڑیوں پر زیادہ انحصار جن کے دھوئیں کے روکنے کے لئے شاذ و نادر ہی کام کیا جاتا ہے، صنعتی آلودگی، اینٹوں کے بھٹے کوئلہ جلانے اور سردیوں کے دوران گھروں کو گرم رکھنے کے لیے فوسل فیول جلایا جاتا ہے، جس کے باعث یہ مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے۔
قبل از وقت اقدامات جیسے کہ صنعت کاروں پر زور دینا کہ وہ ایسے عناصر کی حمایت نہ کریں جو کاربن، ربڑ اور دیگر ممنوعہ ایندھن استعمال کر رہے ہیں اور صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ٹیکنالوجی متعارف کرانا سموگ کی سطح کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔ تاہم، فضائی آلودگی کو تیزی سے کم کرنے کے لیے، طویل المدتی اور وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جیسے کہ شہریوں کو عوامی نقل و حمل کی طرف جانے کی ترغیب دینا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا اور ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانا اس منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے۔
اس سے قبل، پنجاب حکومت نے اینٹوں کے بھٹہ مالکان پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ موسم سرما میں اخراج اور سموگ پر قابو پانے کے لیے دوسری ٹیکنالوجی پر جائیں۔ گزشتہ چند سالوں میں، سموگ نے پنجاب بھر میں تباہی مچا دی ہے، جس سے تمام روزمرہ کی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔
لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب حکومت کے فیصلے سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے موجود ہیں لیکن ہمیں سموگ کے اس دیرینہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے احکامات پر عمل درآمد کے لیے صرف عزم کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں