بے رحمانہ گرمی سے اسپین کی فضائیں سنسان؛ 1200 افراد جان کی بازی ہار گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ یورو میڈیا)

اسپین میں شدید گرمی کی لہر نے گزشتہ دو ماہ کے دوران تباہ کن صورت حال پیدا کر دی ہے، جہاں 1,180 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ وزارت ماحولیات کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جب اسی مدت میں صرف 114 اموات ریکارڈ ہوئی تھیں۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں 65 سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کی رہی ہیں، جن میں خواتین کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔ شمالی اسپین کے علاقے گلیشیا، لا ریوجا، آسٹوریاس اور کانتابریا خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں، جہاں موسم گرما عام طور پر معتدل ہوتا تھا لیکن اس بار اس کا رُخ بدلا نظر آیا۔

وزارت نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی نوعیت کا موسمی بحران ہے جس میں درجہ حرارت کی تاریخی بلندیاں اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ 16 مئی سے 13 جولائی کے درمیان 76 بار “ریڈ الرٹ” جاری کیے گئے، جو اس کی شدت کی واضح نشاندہی ہے، جبکہ پچھلے سال اس دوران کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا تھا۔

کارلوس III ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سال اسپین میں گرمی سے متعلقہ اموات کی تعداد 2,191 تھی، جو اس موسم کی سختی کو ظاہر کرتی ہے۔

دوسری جانب، برطانیہ میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز نے 250 سالوں میں سب سے زیادہ بارش والا سردی کا موسم دیکھا، جبکہ پچھلے تین سال وہاں کے سب سے گرم ترین سال رہے ہیں۔

ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بارشوں کی شدت، سیلاب اور سمندری سطح میں اضافے کے باعث عالمی ماحولیاتی نظام شدید خطرے میں ہے۔ برطانیہ کے وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ “ہماری طرز زندگی خطرے میں ہے” اور اب فوری اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

Related Posts